مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حقیقی اور پائیدار استحکام صرف ایران کے لازمی اور قانونی حقوق اور مفادات کے مکمل احترام کے ذریعے ممکن ہے۔ امریکہ کی غیر قانونی کارروائیوں کی وجہ سے سمندری سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی مندوب نے امریکہ کے اعلان کردہ بحری محاصرے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے اصولوں کا نفاذ صرف ان ساحلی ممالک کی خودمختاری اور ان کے قانونی حقوق کے مکمل احترام سے ممکن ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ علاقے میں پائیدار استحکام صرف جارحیت کے خاتمے اور ایران کے قانونی حقوق اور مفادات کے احترام سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی غیر قانونی کارروائیوں سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔یہ اقدامات سمندری سکیورٹی بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ امریکہ کا اعلان کردہ بحری محاصرہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایروانی نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت واضح جارحیت قرار دیا اور کہا کہ امریکی کوششیں تیسرے ممالک کے قانونی حقوق میں مداخلت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی مندوب نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مسلسل خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری آزادی اور سمندری سلامتی کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ