17 اپریل، 2026، 10:47 AM

ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، صدر پزشکیان

ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر نے آرمی چیف پاکستان سے ملاقات میں کہا کہ تہران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں اپنے قومی حقوق کے حصول کے عزم پر قائم رہے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا ہے کہ تہران خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور ہمسایہ و اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا ایران کی بنیادی پالیسی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی اور جنگ بندی کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرنے پر ان کا اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی میزبانی پر بھی پاکستان کی تعریف کی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام اسلامی ممالک کو اپنا بھائی سمجھتا ہے اور یہ نقطۂ نظر رسول اکرم ﷺ کی سیرت سے ماخوذ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات دفاعی ضرورت کے تحت اور مسلط کردہ حالات کے جواب میں کیے گئے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ خطے میں جنگوں اور بدامنی کی بڑی وجہ صہیونی حکومت کی وہ سازشیں ہیں جن کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔ امت مسلمہ کو اتحاد اور تعاون کے ذریعے صہیونی حکومت کو اسلامی سرزمین کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا۔ اگر اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو صہیونی حکومت کے لیے خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا ممکن نہیں رہے گا۔

صدر پزشکیان نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ایران کے خلاف حملوں کو غیرقانونی اور مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران کے عظیم رہبر کی شہادت ہوئی، اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان پہنچا اور بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سب کس اجازت اور کس دلیل کے تحت کیا گیا۔

ایرانی صدر نے جنگ رکوانے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سنجیدہ اور مسلسل کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا چاہیے، کیونکہ اگر ایسا ہو تو امت مسلمہ کے دشمن اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔

پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے بعد خطے کے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی روابط کو مضبوط بنا کر پائیدار امن اور سلامتی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوال اہم ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی خود کیوں نہیں یقینی بنا سکتے۔ جیسے یورپ نیٹو جیسے نظام کے ذریعے اپنی سلامتی کا انتظام کرتا ہے، اسی طرح اسلامی ممالک بھی اپنے مشترکہ دینی اور ثقافتی اصولوں کی بنیاد پر اجتماعی تعاون کے ذریعے اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ پر عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام بار بار وعدہ خلافیوں، مذاکرات کے دوران حملوں اور حکام کے قتل جیسے واقعات کے باعث امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ان حالات میں بھی ایران پاکستان جیسے دوست ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے، تاہم قومی مفادات کا دفاع پوری قوت سے جاری رہے گا۔

اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی عوام اور قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور رہبر انقلاب، ایرانی کمانڈروں اور شہریوں کی شہادت پر پاکستان کے وزیر اعظم اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا پیغام پہنچایا۔

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ اگرچہ یہ جنگ ختم ہوجائے گی لیکن خطہ پہلے جیسی صورتحال میں واپس نہیں آئے گا، اس لیے تمام ممالک کو تعمیر نو، استحکام اور امن کے لیے مشترکہ تعاون کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران چین، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ نے سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور اس تعاون کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ جنگ اور بحران کے وقت ممالک کے تعلقات کی اہمیت زیادہ واضح ہوتی ہے اور اس قسم کے دورے اور روابط دوستی کی صداقت کی علامت ہیں۔

پاکستانی آرمی چیف نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے دینی، تاریخی اور ثقافتی اشتراکات موجود ہیں جو مزید وسیع تعاون کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ جنگ سوائے تباہی اور نقصان کے کوئی نتیجہ نہیں دے گی۔

News ID 1938914

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha