مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امارات کے حکمران محمد بن زاید آل نہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی جارحیت کے نتیجے میں مشرق وسطی میں پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کریملن کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں فوجی اور سیاسی صورتحال کے مسلسل بگڑنے، شہریوں کے جانی نقصان اور توانائی، صنعتی اور دیگر غیر فوجی بنیادی ڈھانچوں کی تباہی پر گہری تشویش ظاہر کی۔
ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے اور بحران کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔
کریملن کے مطابق پوٹن اور اماراتی حکمران نے اس امر کو بھی ضروری قرار دیا کہ تنازع کے حل کے لیے ایسی سیاسی و سفارتی راہ اپنائی جائے جس میں خطے کے تمام ممالک کے جائز مفادات کا احترام یقینی بنایا جائے۔
ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس میں موجودہ بحران میں ایسے آثار نمایاں ہیں جو اسے ایک بڑے اور وسیع تر تنازع میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ