مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور ایران پر حالیہ حملوں کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر پزشکیان نے پاکستانی عوام کی جانب سے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت بعض ہمسایہ ممالک کی جنگ رکوانے کی کوششیں قابل قدر ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حملہ آور قوتوں نے کچھ مسلمان ممالک کی سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔ ایران کا دفاعی ردعمل حملے کے اصل مقام کے خلاف ہوتا ہے، جبکہ ایران تمام مسلمان ممالک کو اپنا بھائی سمجھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچے۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ اسرائیل خطے میں جنگ کو پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے مسلم ممالک کو چاہیے کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے مسلمان ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ مسلمان ممالک کے اندر اپنے مشترکہ دشمن خصوصا اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے وعدوں کے باوجود ایران کی اقتصادی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ایران کی بے اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔
گفتگو کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے خلاف تمام حملوں، خصوصا اہواز اور اصفہان میں اقتصادی مراکز پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایران کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں پاکستانی تجارت کے لیے کیے گئے ایرانی انتظامات پر بھی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب حملے مکمل طور پر رک جائیں۔
انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہ تہران کا دورہ کریں گے۔
آپ کا تبصرہ