مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے، بشرطیکہ سفارتکاری کو اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران گزشتہ دور کے مذاکرات میں طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر جنیوا میں امریکا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرے گا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کم سے کم وقت میں ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم ایرانی عوام کے لیے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے کہ ایسا غیر معمولی معاہدہ طے کیا جائے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات کو یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ دسترس میں ہے، مگر اس کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران نے ہمیشہ اپنی خودمختاری کے دفاع میں جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور یہی جرات وہ مذاکرات کی میز پر بھی لے کر آئے گا تاکہ اختلافات کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ