مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں روس کے اعلی سفارتکار نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔
میخائیل اولیانوف نے روسی اخبار کو بتایا کہ روس، چین اور ایران کے مستقل نمائندوں نے ڈائریکٹر جنرل بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایران کے جوہری معاملے سے متعلق تمام موجودہ مسائل کے حل کے لیے خالصتا سیاسی اور سفارتی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اولیانوف نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی مسئلے کا حل طاقت یا دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ادھر 17 فروری کو عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں منعقد ہوا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق فریقین کے درمیان چند نکات پر باہمی مفاہمت ہوئی ہے جنہیں مستقبل کے ممکنہ جوہری معاہدے کے مسودے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے خواہاں ہیں اور مسئلے کا حل سیاسی راستے سے تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ