مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے شمالی خراسان میں 22 بہمن کی ریلیوں کے اختتامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر نے ۱۳ جون ۲۰۲۵ سے ایران کے فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کرنے کی کوششیں کیں، لیکن رہبر انقلاب کی ہوشیار رہنمائی نے بار بار ان سازشوں کو ناکام بنایا۔
نائینی نے حالیہ غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے معاشی مشکلات کو بہانہ بنا کر ایرانی معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی، لیکن عوام کی قائدانہ وابستگی نے ان منصوبوں کو ناکام کردیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ہنگاموں میں ۵۰ سے زائد غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں براہ راست یا بالواسطہ ملوث تھیں، جن کا بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو گرانا تھا۔ نائینی نے زور دیا کہ ایرانی عوام کی ہوشیاری اور ملک کی دفاعی طاقت نے ان تمام کوششوں کو بے اثر کردیا۔
انہوں نے ایران کی فوجی بازدارندگی کا حوالہ دیتے ہوئے وعدہ صادو آپریشن کا ذکر کیا، جس دوران دشمن کے 300 سے زائد طیارے ایرانی میزائلوں کو علاقے میں ٹریک کرنے کی کوشش میں ناکام رہے۔ دشمن نے سیکڑوں طیارے اور دفاعی نظام تعینات کرنے کے باوجود کنفیوژن کا شکار ہو کر بالآخر جنگ بندی کی درخواست کی۔
نائینی نے عوام کی بڑی قومی تقریبات میں شمولیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام اور انقلاب کے درمیان گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی کوششیں، چاہے وہ فوجی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ہوں یا پروپیگنڈا مہم چلانے کی، معاشرتی استحکام کو خراب کرنے کی نیت رکھتی ہیں، لیکن ایرانی استقامت نے ہر بار انہیں ناکام بنایا ہے۔
آخر میں نائینی نے کہا کہ 47 سال کی ثابت قدمی کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران نے اسٹریٹجک طاقت حاصل کرلی ہے۔ ایمان، قومی یکجہتی اور حکمت والی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے ہم امام خمینی (رح) کے راستے پر طاقتور اور بلا توقف آگے بڑھتے رہیں گے۔
آپ کا تبصرہ