مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی حمایت اور مالی معاونت پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنا کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے جنم لینے والے فسادات 8 جنوری کو شدت اختیار کرگئے۔ ابتدا میں بازاروں اور مارکیٹوں میں پرامن احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ ان احتجاجات میں تاجروں نے ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
پریس ٹی وی کے مطابق، بعد ازاں تشدد میں اضافہ ہوا جسے صہیونی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ ان واقعات کے نتیجے میں سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا، دکانیں، سرکاری ادارے اور عوامی املاک تباہ ہوئیں، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسیوں نے براہ راست کردار ادا کیا، جنہوں نے فسادی عناصر اور مسلح دہشت گردوں کو مالی وسائل، تربیت اور میڈیا معاونت فراہم کی۔
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایژہ ای نے بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پرتشدد فسادات کے پیچھے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ہاتھ تھے اور ان کا کردار محض بالواسطہ نہیں بلکہ کھلا اور براہ راست تھا۔
حالیہ بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف عدالتی کارروائی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں انہوں نے کہا کہ فسادات کے دوران مجرم امریکہ اور صہیونی حکومت نے دہشت گردوں اور فسادیوں کو مالی، عسکری اور تربیتی معاونت فراہم کی جس پر بین الاقوامی فورمز پر دونوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ