مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید لبنانی اسیروں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی آزادی مزاحمت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے صہیونی حکومت کی قید میں موجود لبنانی اسیروں اور ان کے اہلِ خانہ کے نام پیغام میں کہا کہ اسرائیل اسیروں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک روا رکھتا ہے اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو بھی پامال کر رہا ہے، اس کے باوجود قیدی صبر، استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے خاندان شدید ذہنی و روحانی اذیت سے دوچار ہیں۔
شیخ نعیم قاسم کے مطابق لبنانی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مناسب اقدامات اور دوست ممالک پر مؤثر دباؤ کا فقدان ہے، حالانکہ اسیروں کی رہائی کے لیے سرکاری، عوامی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور اور منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور جنگ بندی کے ضامن ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی جیلوں میں قید اسیروں کی آزادی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسیروں کی آزادی قومی حاکمیت اور حقیقی آزادی کا لازمی جزو ہے اور جب تک تمام اسیر آزاد اور لاپتہ افراد کے انجام کا تعین نہیں ہو جاتا، خطے میں کسی قسم کے استحکام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے اسرائیل کو ایسا دشمن قرار دیا جو انسانی اقدار سے عاری ہے اور جسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ حزب اللہ اور لبنانی عوام اپنے اسیروں کو اسرائیلی جیلوں میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ اسارت مزاحمت اور جہاد میں عزت و افتخار کی علامت ہے۔
انہوں نے اسیروں کے اہل خانہ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان تمام شخصیات اور قوتوں کا شکریہ ادا کیا جو اسیروں کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت ہی ان کا راستہ ہے، جو بالآخر فتح، کامیابی اور اسلام و وطن کی سربلندی پر منتج ہوگا۔
آپ کا تبصرہ