مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمان کے ارکان نے یورپی پارلیمنٹ کی ایران مخالف قرارداد کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے مداخلت پسندانہ، سیاسی اور دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغرب کا یہ دشمنانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ایرانی قوم کے مضبوط اور پختہ عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتا۔
پارلیمانی بیان کے مطابق، یورپی ممالک اپنی داخلی اور خارجی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور اسی تناظر میں ایران کے خلاف جانبدارانہ قراردادیں منظور کی جا رہی ہیں۔
ارکانِ پارلیمان نے واضح کیا کہ ٹھوس شواہد اور ناقابل تردید دستاویزات موجود ہیں جو اس امر کو ثابت کرتے ہیں کہ بعض غیر ملکی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گرد گروہوں کے سرغنوں کے ساتھ براہ راست اور منظم رابطے رکھتی ہیں، اور انہی روابط کے نتیجے میں 8 جنوری کو بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی سازشیں کی گئیں۔
بیان میں یورپی پارلیمنٹ اور یورپی حکومتوں کی غزہ کے حوالے سے خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کہا گیا کہ یہی ادارے صہیونی رژیم کے بے مثال جرائم—جن میں وسیع پیمانے پر جبری نقل مکانی، منظم نسل کشی اور غزہ میں 80 ہزار سے زائد نہتے شہریوں کا قتل شامل ہے—پر شرمناک اور معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو درحقیقت ایک دہشت گرد رژیم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔
ایرانی قانون سازوں نے کہا کہ اسی کھلے دوہرے معیار کے تحت اب ایک ناحق قرارداد کے ذریعے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، حالانکہ یہی ادارہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں سب سے مؤثر اور نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ