مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی انٹیلی جنس تنظیم نے جمعے کے روز امریکا اور اسرائیل کی پشت پناہی سے کی جانے والی فتنہ انگیزی کے حوالے سے اپنا تیسرا بیان جاری کیا۔ یہ بیان 3 شعبان کی مناسبت اور یوم پاسدار کے موقع پر جاری کیا گیا، جس میں حالیہ بدامنی کے دوران شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے عہد کی تجدید بھی کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ جنوری میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات 12 روزہ جنگ میں دشمن کی حکمت عملی کی ناکامیوں کے نتیجے میں عجلت میں انجام دیے گئے۔ ان واقعات کا مقصد حالات کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔
آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس تنظیم کے مطابق یہ واقعات امریکا اور اسرائیل کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ تھے، تاہم سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت تیاری اور ایرانی عوام کی ہوشیاری کے باعث اس منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 12 روزہ جنگ کے فوراً بعد ایران کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی ہم آہنگی کے لیے دشمن کے 10 خفیہ اور باہمی طور پر رقابت رکھنے والے انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل ایک کمانڈ روم قائم کیا گیا تھا۔
اس کمانڈ ڈھانچے سے حاصل ہونے والی دستاویزات اور معلومات کے مطابق یہ منصوبہ تین ستونوں پر مبنی تھا، داخلی بدامنی، فوجی مداخلت، اور گروہی تحریکوں کو متحرک کرنا، جن کا مقصد ایران کی موجودیت کو خطرے میں ڈالنا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس تنظیم نے اس کے جواب میں فکری سطح پر جوابی اقدامات اور انٹیلی جنس کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا تاکہ ممکنہ بدامنی کی شدت، دائرہ کار اور پھیلاؤ کو روکا اور کنٹرول کیا جا سکے۔ ’داخلی بدامنی اور گروہی تحریکوں سے متعلق ستونوں کے خلاف مخصوص عملی منصوبے نافذ کیے گئے، جن کے نتیجے میں درج ذیل اقدامات سامنے آئے:
ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس سے وابستہ 735 افراد کو گرفتار یا طلب کیا گیا۔
11 ہزار حساس اور خطرے سے دوچار افراد کی رہنمائی اور مشاورت کی گئی۔
خطرے سے دوچار سماجی طبقات اور پیشوں میں آگاہی مہمات چلائی گئیں۔
743 غیر قانونی فوجی اور شکاری ہتھیار ضبط کیے گئے۔
غیر ملکی خفیہ اداروں سے تعاون کرنے والے نیٹ ورکس کے 46 ارکان کی نشاندہی کی گئی۔
بیان میں حالیہ بدامنی کو دشمن کی مشترکہ کارروائی کا کمزور مگر نئے سرے سے ترتیب دیا گیا روپ قرار دیا گیا، جس کا مقصد اسلامی نظام کو غیر مستحکم کرنا اور ایران کی قومی و جغرافیائی یکجہتی کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم یہ کوششیں مکمل طور پر ناکام بنا دی گئیں۔
آپ کا تبصرہ