22 جنوری، 2026، 7:50 PM

ولی فقیہ ریڈ لائن ہے، ان پر حملہ اعلان جنگ اور حملہ آور شخص یا ریاست کا خون حلال ہے، آیت اللہ مکارم

ولی فقیہ ریڈ لائن ہے، ان پر حملہ اعلان جنگ اور حملہ آور شخص یا ریاست کا خون حلال ہے، آیت اللہ مکارم

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے حالیہ امریکی صدر کی دھمکی آمیز بیانات کے پیش نظر فتوا دیا ہے کہ جو بھی شخص یا ریاست رہبر انقلاب اور مرجعیت کو دھمکی دے یا ان پر حملہ کرے، وہ شرعاً محارب کے حکم میں ہے، اور ایسے عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں پر حرام ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دنیائے تشیع کے ایک بزرگ مجتہد، فقیہ اور مفسر آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے امریکی صدر کی ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو دی جانے والی بار بار کی دھمکیوں کے پیش نظر واضح الفاظ میں فرمایا ہے "ہر وہ شخص یا ریاست جو ملت اسلامیہ اور اس کی حاکمیت کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ولی فقیہ اور مرجعیت کو دھمکی دے یا ان پر حملہ کرنے کی جسارت کرے، اس پر محارب (واجب القتل) کا حکم لاگو ہوتا ہے، اور مسلمانوں یا اسلامی حکومتوں کی جانب سے اس کی کسی بھی شکل میں مدد یا تقویت دینا حرام ہے۔"

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے فرمایا کہ ایران میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے ہر درد مند انسان کے دل کو رنجیدہ کر دیا ہے۔ یہ قوم اپنی آزادی اور عزت کے لیے بھاری قیمت ادا کر چکی ہے، اور جب دشمن پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اس سرزمین اور اس کے عوام کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہا ہے، تو قومی وحدت کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بازار اور عوامی معیشت کی موجودہ صورت حال سب کے لیے تکلیف دہ ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے عوامی امداد کے لیے مالی اقدامات ایک مثبت قدم تھے، لیکن اسی کے ساتھ بنیادی اشیائے ضروری کے لیے زرِ مبادلہ کی سہولت ختم کیے جانے سے قیمتوں میں عمومی اضافہ ہوا اور عوام پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔

آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق، مہنگائی، قیمتوں میں عدم استحکام اور مقررہ آمدنی والے طبقے کی مشکلات سماجی بے چینی کا بنیادی سبب ہیں، تاہم معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً خواص اور بااثر افراد کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ جائز مطالبات دشمن کے لیے سوئے استفادے کا ذریعہ نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشت گردانہ واقعات اور بدامنی کے دوران تخریب کاروں کا اصل چہرہ سامنے آ گیا، یہاں تک کہ خود اسرائیل نے ان واقعات میں اپنے کردار کا اعتراف کیا۔ مساجد، عوامی مقامات، دکانوں، بینکوں اور شہری املاک کو نقصان پہنچانا دراصل نظام اسلامی اور اسلام کے خلاف کھلی جنگ کے مترادف ہے۔

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ امریکی صدر شدید توہم کا شکار ہے اور جھوٹ اس کی سیاست کا بنیادی سرمایہ ہے۔ امریکہ یہ گمان کرتا رہا کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام نے ثابت کر دیا کہ یہ محض ایک خام خیالی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے امریکہ سے مذاکرات، جو کسی معاہدے کا پابند نہیں رہتا اور دستخط شدہ معاہدوں کو عالمی میڈیا کے سامنے پامال کرتا ہے، نہ عقلی ہیں اور نہ منطقی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امتِ اسلامی کی قیادت اور مرجعیت ہمارے عقیدے کا حساس ترین ستون ہے۔ کوئی بھی باشعور مسلمان اس پر دھمکی یا گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا دنیا بھر کے مسلمانوں اور آزاد انسانوں پر لازم ہے کہ وہ رہبر انقلاب کی حمایت اور ہر قسم کی جسارت کی کھلے الفاظ میں مذمت کریں۔

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے صراحت کے ساتھ فرمایا: “جو شخص یا ریاست امت اسلامی کی قیادت کو نشانہ بنائے، وہ محارب ہے، اور اس کے خلاف کھڑا ہونا دینی فریضہ ہے۔ اگر اس راہ میں مسلمانوں کو کسی قسم کی مشقت یا نقصان اٹھانا پڑے تو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کے اجر کے مستحق ہوں گے۔”

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ جائز مطالبات کی آڑ میں مقدسات کی توہین، عوامی املاک کی تباہی اور معاشرتی انتشار کو فروغ دے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف ایک متحد، مضبوط اور باوقار ایران ہی تمام اقوام اور طبقات کے لیے امن، عزت اور سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

News ID 1937831

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha