22 جنوری، 2026، 11:58 AM

رہبر انقلاب اور ایرانی قوم کی استقامت سے امریکی سازش ناکام ہو گئی، بادامچیان

رہبر انقلاب اور ایرانی قوم کی استقامت سے امریکی سازش ناکام ہو گئی، بادامچیان

مؤتلفہ اسلامی پارٹی کے مرکزی کونسل کے سربراہ اسداللہ بادامچیان نے کہا ہے کہ 12 روزہ جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی براہ راست قیادت میں امریکہ نے پہلے فوجی حملے اور پھر ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن رہبرِ انقلاب، ایرانی عوام اور انقلابی قوتوں نے اس سازش کو مکمل طور پر ناکام بنادیا۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مؤتلفہ اسلامی نامی سیاسی پارٹی کے مرکزی کونسل کے سربراہ اسداللہ بادامچیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رہبر انقلاب کو دی جانے والی دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا میری نظر میں ٹرمپ امریکہ کا گورباچوف ہے؛ ایسا شخص جو عملاً امریکہ کے زوال میں مدد کر رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے وہ اقتدار میں آیا ہے، اس کی فکری اور عملی آشفتگی بالکل واضح ہے۔ جو شخص خود آشفته ہو، اس کے بیانات بھی آشفته ہوتے ہیں؛ ایسے بیانات جو روز بروز نہ صرف خود اس کو بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے مقام کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا آج امریکہ کے یورپ کے ساتھ تعلقات بھی بحران کا شکار ہیں۔ وہ چند ممالک جو بظاہر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، وہ بھی شدید اختلافات میں مبتلا ہیں۔ اس غصے کی اصل وجہ بالکل واضح ہے اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو ایران سے باہر نکال دیا۔ وہی ممالک جنہوں نے بغاوت کے بعد ایران کے تیل کے وسائل لوٹے؛ اس طرح کہ روزانہ چھ ملین بیرل سے زیادہ تیل نکالا جاتا تھا، مگر ایران کو اس میں سے صرف تقریباً تین لاکھ بیرل کا فائدہ ملتا تھا۔

مؤتلفہ پارٹی کے مرکزی سربراہ نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بھی انہوں نے پوری طاقت سے انقلاب کو گرانے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں صرف دو امریکی صدور ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ذاتی طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کمان سنبھالی؛ ایک جمی کارٹر اور دوسرا ٹرمپ۔ دونوں کو شکست ہوئی۔

بادامچیان نے زور دیتے ہوئے کہا حالیہ 12 روزہ جنگ میں بھی ٹرمپ کی براہ راست قیادت میں منصوبہ یہ تھا کہ پہلے فوجی حملہ کیا جائے اور اس کے بعد اندرونی بدامنی اور انتشار پیدا کیا جائے، لیکن ایرانی قوم، رہبر انقلاب اور انقلابی قوتوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ یہی شکست ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا آج ایران بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ طاقت بن چکا ہے اور خطے میں محورِ مقاومت کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ 38 ٹریلین ڈالر کے بھاری قرض، معاشی بحران اور ڈالر کی عالمی حیثیت کے زوال سے دوچار ہے۔ ٹرمپ اخراجات کم اور آمدن بڑھانا چاہتا ہے، لیکن یہ راستہ ایک بند گلی ہے۔

آخر میں بادامچیان نے کہا ٹرمپ کے یہ بیانات کسی حیثیت کے حامل نہیں؛ جس طرح شیطان بھی خدا کی جسارت کی جرأت کرتا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایک ہی شیطانی راستے پر چل رہے ہیں اور ان کا انجام شکست کے سوا کچھ نہیں۔

News ID 1937823

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha