مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ جنگ کے مقابلے میں امن کی حامی رہی ہے اور منصفانہ معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کرتی رہی ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو تہران پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ایرانی عوام کے پُرامن مظاہرے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کی مداخلت کے باعث پرتشدد شکل اختیار کر گئے، جس کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ کی بندش ضروری ہو گئی۔
عراقچی کے مطابق ان واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اہم تنصیبات، اسپتال اور عوامی مقامات بھی تباہ ہوئے، تاہم اب ملک میں حالات معمول پر آ چکے ہیں۔
انہوں نے ایران کے اندرونی معاملات میں صدر ٹرمپ کی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے خلاف دھمکیوں کا اصل مقصد امریکہ کو اسرائیل کے فائدے کے لیے ایک نئی جنگ میں جھونکنا تھا، جس کا نتیجہ شدید خونریزی کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا موساد کے کردار سے متعلق اعتراف ایک ٹھوس ثبوت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران امن چاہتا ہے، مگر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا، اور امریکہ کو ایران کے ساتھ احترام پر مبنی پالیسی اپنانا ہوگی۔
آپ کا تبصرہ