مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ فراس الیاسر نے امریکی صدر کی جانب سے رہبرِ انقلاب اسلامی کے خلاف دھمکی آمیز بیانات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مکتبِ تشیع کسی بھی قسم کی زیادتی اور جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہای دنیا بھر میں تشیع کے عظیم اور اعلیٰ ترین مراجع میں شمار ہوتے ہیں، اور حتیٰ کہ ان پر حملے کا تصور کرنا بھی خطے اور دنیا کے توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔
فراس الیاسر کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے خلاف غصہ درحقیقت واشنگٹن کی گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ناکام پالیسیوں اور منصوبوں کا نتیجہ ہے۔
تحریک النجباء کے سیاسی رکن نے خطے میں امریکی مداخلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے عراق میں نام نہاد جوکر گروہوں کے ذریعے اور ایران میں رنگین انقلاب کے منصوبوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی، تاہم امریکیوں کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایران میں نہ تو فوجی بغاوت ممکن ہے اور نہ ہی رنگین انقلاب۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ عراق کے شیعہ کسی بھی صورت ایران کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور تاکید کی کہ تحریک النجباء عراق میں امریکہ کی تمام حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
فراس الیاسر نے مزید خبردار کیا کہ امریکہ آئندہ مرحلے میں فرار ہونے والے تکفیری قیدیوں کو استعمال کر کے عراق کو ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کر سکتا ہے، جس کے لیے عراقی مزاحمتی قوتیں مکمل طور پر ہوشیار ہیں۔
آپ کا تبصرہ