مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید عباس عراقچی نے رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای کے آثار کی حفظ و نشر سے وابستہ ادارے کے انٹرنیٹ اخبار صدائے ایران میں ایک تفصیلی مضمون تحریر کیا، جس کا متن درج ذیل ہے۔
حالیہ واقعات اور وہ منظم دہشت گردانہ کارروائیاں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں انجام پائیں، ایک بار پھر ایران کے حوالے سے امریکی حکومت کے حقیقی طرز عمل کو بے نقاب کر چکی ہیں۔ تاہم اس سے بھی بڑھ کر، ان واقعات نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں عالمی رائے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے۔ کہ کیا ریاستیں بغیر کسی قیمت ادا کیے، دوسرے ممالک کے داخلی امور میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟
میدانی شواہد اور سرکاری بیانات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ 18 تا 20 دی کی دہشت گردانہ کارروائیاں کوئی خود رو عوامی احتجاج نہیں تھیں بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ تھیں جنہیں امریکہ اور صہیونی رژیم کی جانب سے اطلاعاتی، میڈیا اور عملی تعاون حاصل تھا۔ مجرم عناصر کی تربیت، انہیں اسلحہ فراہم کرنا، ان کی رہنمائی، تشدد پر براہِ راست اکسانا اور ایران کے داخلی امن و استحکام کو نشانہ بنانا—یہ تمام عناصر ان واقعات کو محض ایک پرامن داخلی احتجاج کے دائرے سے نکال کر ایک مکمل دہشت گردانہ کارروائی اور سنگین بین الاقوامی قانونی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔
داخلی تخریب کاری سے سفارتی مشنز پر حملوں تک
ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والا نقصان صرف عوام کی جان و مال تک محدود نہیں رہا۔ مساجد، تعلیمی اداروں، بینکوں، اسپتالوں، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی مراکز کی تباہی، نیز سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ضیاع اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ پرور عناصر کا اصل ہدف سماجی نظم کو مفلوج کرنا اور معاشرے میں خوف پھیلانا تھا۔
اس سے بھی بڑھ کر، بعض ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی اور قونصلر دفاتر پر حملے، ویانا کنونشن 1961 اور 1963 کی صریح خلاف ورزی اور سفارتی آداب کی کھلی پامالی ہیں، جو بین الاقوامی سفارتکاری کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔
امریکی حکام کے سرکاری اور مستند بیانات، بالخصوص بلوائیوں کی کھلی حمایت اور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں، بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں؛ جن میں ریاستوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت کا اصول، اقوام متحدہ کے منشور کی شق 2 کی دفعہ 4، جنرل اسمبلی کی قرارداد 2625 (24 اکتوبر 1970)، الجزائر اعلامیہ 1981، اور دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق امریکی بین الاقوامی ذمہ داریاں شامل ہیں۔
اسی تناظر میں، امریکی صدر کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب—جو ایک خودمختار ریاست کے اعلیٰ ترین سرکاری عہدے پر فائز ہیں—کے خلاف بار بار اور کھلے عام دھمکیاں دینا ایک ناقابلِ چشم پوشی اقدام ہے۔ یہ ریاستوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور سربراہان مملکت کے تحفظ کے مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے سنگین قانونی اور سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔
ایران کا قانونی اقدام؛ عالمی نظام کے لیے واضح پیغام
وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران، اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت اور ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع میں، 12 روزہ مسلط کردہ جنگ اور حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے امریکہ کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے قانونی اور بین الاقوامی پیگیری کو سنجیدگی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دشمنانہ مداخلتوں اور اقدامات کی مکمل دستاویز بندی جاری ہے اور اندرونی و بین الاقوامی مجاز عدالتی فورمز پر قانونی دعوے دائر کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ یہ راستہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
وزارتِ خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران ایرانی قوم کے ایک ایک فرد کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی اور ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ دہشت گردی کی حمایت بین الاقوامی نظام میں ایک بے لاگ روایت بن جائے۔ امریکہ کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ