20 جنوری، 2026، 9:22 PM

یورپی پارلمان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی توثیق روک دی

یورپی پارلمان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی توثیق روک دی

گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کے بعد یورپی قانون سازوں نے امریکہ کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کی منظوری کا عمل روک دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یورپی پارلمینٹ نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کی توثیق کا عمل روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یورپی پارلمینٹ کے مرکزی سیاسی گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کے خلاف ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد اس معاہدے کی منظوری فی الحال ممکن نہیں رہی۔

فرانسوی خبررساں ایجنسی نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی پارلمان کے بڑے سیاسی دھڑوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے قانون سازوں نے اتفاق رائے سے امریکہ کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدے کی منظوری مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آئندہ ہفتوں میں بعض امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف ختم کرنے کے لیے ووٹنگ متوقع تھی۔

یورپی پارلمان کے مرکزی سیاسی گروپوں، جن میں یورپی پیپلز پارٹی (EPP)، سوشلسٹس اینڈ ڈیموکریٹس (S&D) اور لبرل گروپ ’’رینیو یورپ‘‘ شامل ہیں، نے پیر کے روز ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردِعمل دیا جس میں انہوں نے گرین لینڈ کے مسئلے پر یورپی ممالک کے خلاف تجارتی محصولات عائد کرنے کی بات کی تھی۔

یورپی پیپلز پارٹی کے سربراہ اور پارلمان کے سب سے بڑے سیاسی گروپ کے سربراہ منفریڈ ویبر نے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکیوں نے اس مرحلے پر یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی منظوری کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ایسا معاہدہ، جس میں امریکی مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف شامل تھا، فی الحال روک دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ جولائی 2025 میں طے پایا تھا، تاہم حالیہ سیاسی و تجارتی کشیدگی کے باعث اس کی توثیق روک دی گئی ہے۔

News ID 1937793

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha