مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلجیئم وزیر اعظم بارت دی ویور نے کہا: ہمیں کل کی خوشحالی لیے اپنے ہی ٹیکنالوجیکل فریم ورک کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ٹرمپ ہمارے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ ہمارے ساتھ کھیل سکتا ہے، وہ ہمیں غلام بنا سکتا ہے، کیونکہ حقیقت میں ہم غلام بن جائیں گے۔
بلجیئم کے وزیرِاعظم نے مزید کہاکہ یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے کہ امریکہ کا رخ اب بحرالکاہل کی طرف ہو چکا ہے اور اس کی پشت بحرِ اوقیانوس کی جانب ہے، اور یہ تبدیلی ٹرمپ کے بعد بھی برقرار رہے گی۔ یہ محض وقتی نہیں بلکہ ایک بنیادی تبدیلی ہے۔
انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ میرے خیال میں پوٹن سے بات چیت کرنا کوئی اچھا خیال نہیں، کیونکہ جیسا کہ خود امریکیوں نے کہا ہے، اگر بات کرنی ہو تو نرمی سے کرو، لیکن ہاتھ میں ایک بڑا ڈنڈا بھی ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس وہ بڑا ڈنڈا نہیں ہے، ہم صرف نرمی سے بات کر سکتے ہیں۔
بارت دی ویور نے کہا کہ لوگ یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے کسی ہمسایہ ملک کو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ امریکہ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ کوئی ایسا نہیں چاہتا۔ سب یورپی یونین میں آنا چاہتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم احترام کرتے ہیں، ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی ہے اور ہم نرم لہجے میں بات کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ