مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے براہ راست ہدایات مل رہی تھیں۔ دہشت گرد داعش کی پیروی کرتے ہوئے نہتے عوام اور سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کررہے تھے۔ بعض مقامات پر پولیس اہلکاروں کو زندہ جلادیا اور بعض کا سر تن سے جدا کردیا۔ ہم تین دن تک دہشت گردوں کا سامنا کرتے رہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ ٹرمپ کو مداخلت کا جواز فراہم کریں۔ یہی صیہونی حکومت کی سازش تھی۔
انہوں نے کہا کہ 8 جنوری کو ملک گیر دہشت گردی ہوئی۔ در حقیقت یہ صہیونی حکومت کے ساتھ جنگ کا تیرہواں دن تھا۔ تین دنوں تک دہشت گردی کے بعد حالات پرامن ہوگئے۔
انہوں نے امریکی صدر کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ گذشتہ سال جون میں کی گئی غلطی نہ دہرائیں۔ اگر شکست خوردہ تجربہ دوبارہ دہرائیں تو وہی نتیجہ ملے گا۔ دشمن نے ہماری تنصیبات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا لیکن ہمارے عزم اور سینے میں موجود علم کو کبھی ختم نہیں کرسکتے۔
عراقچی نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات میں سے مذاکرات بہتر آپشن ہے اگرچہ امریکہ سے اچھی یادیں وابستہ نہیں ہیں۔ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ امریکہ نے گفتگو کا سلسلہ قطع کیا اور جنگ کا اپشن اختیار کیا۔
آپ کا تبصرہ