مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو ان اطلاعات پر شدید پریشان ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی ملک سے باہر لے جایا گیا ہے، اور وہ واشنگٹن سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کی وضاحت کرے۔
ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ماسکو نے امریکی جارحیت کی مذمت کی، صدر مادورو کے ٹھکانے کے بارے میں فوری وضاحت طلب کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ نظریاتی دشمنی نے کاروباری عملیت پسندی پر فتح حاصل کر لی ہے۔
روس نے تمام فریقین پر یہ زور بھی دیا ہے کہ وہ مزید تناؤ سے بچیں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کریں، جبکہ ماسکو نے سفارتی کوششوں کے لیے اپنی حمایت کی پیشکش بھی کی ہے۔
روس کے ساتھ ساتھ کیوبا، کولمبیا، بیلاروس، برازیل اور چلی نے بھی وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے جسے انہوں نے کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
منسک میں حکام نے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی اس وارننگ کو یاد دلایا کہ امریکہ کو وینزویلا میں دوسرے ویتنام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ان حملوں کے جواب میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا۔
دوسری جانب ارجنٹائن اور پولینڈ نے صدر نکولس مادورو کی حراست کی خبروں پر مثبت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے واشنگٹن سے تحمل کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپی یونین مادورو کو وینزویلا کا جائز صدر تسلیم نہیں کرتی۔
آپ کا تبصرہ