مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کویت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کو اپنی جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کے تحت لانے پر مجبور کرے۔
ویانا میں کویت کے سفیر طلال الفصام نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اسرائیل کو ایجنسی کے سیف گارڈ قوانین کا پابند بنائے۔
انہوں نے کہا کہ کویت اس معاملے پر عرب ممالک کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ آئی اے ای اے ہی وہ ادارہ ہے جو جوہری پروگراموں کی پرامن نوعیت کی تصدیق کا اختیار رکھتا ہے۔
کویتی سفیر نے کہا کہ مشرق وسطی کے تمام ممالک NPT کے تحت جامع حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہیں، سوائے اسرائیل کے جو اپنی جوہری تنصیبات کو ایجنسی کی نگرانی میں دینے سے انکار کرتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1995 سے NPT کی نظرثانی کانفرنسوں میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مشرق وسطی کو جوہری ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 487 کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں تمام جوہری تنصیبات کو حفاظتی اقدامات کے تحت لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کویتی نمائندے نے نشان دہی کی کہ تل ابیب نے 1995 کی NPT نظرثانی کانفرنس اور آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے 53ویں اجلاس 2009 کی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی جوہری پروگرام کا معاملہ آئی اے ای اے کے ایجنڈے میں اس وقت تک شامل رہنا چاہیے جب تک اس پر عملی اقدامات نہ کیے جائیں۔
آپ کا تبصرہ