مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے جریدہ "اکانومسٹ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ممکنہ اسرائیلی حملے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا: ہم پچھلی جنگ کے مقابلے میں زیادہ تیار ہیں اور ہمارے میزائل تعداد اور معیار دونوں لحاظ سے بہتر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور اس سے بچنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیار رہنا ہے۔
عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کی حمایت کرتا ہے، جبکہ امریکی اپنی خواہشات کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ہم نے 12 روزہ جنگ کے دوران بہت سے سبق سیکھے، اپنی کمزوریوں اور طاقتوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی رژیم کی کمزوریوں کو بھی پہچانا۔ ان سب پر کام کیا گیا ہے اور ہم مکمل طور پر تیار ہیں، حتیٰ کہ پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
عراقچی نے اس سے قبل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا: ان ممالک نے ایران کی نیک نیتی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے اس اقدام کے ذریعے ایجنسی کی ساکھ اور آزادی کو نقصان پہنچایا ہے اور ایران و ایجنسی کے درمیان تعاون کے عمل میں خلل ڈالا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ایک سرکاری خط کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل کو اطلاع دی گئی ہے کہ یہ معاہدہ اب معتبر نہیں رہا اور ختم شدہ تصور کیا جائے۔
آپ کا تبصرہ