مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے خطیب نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ جوہری معاہدے کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ امریکہ، جس نے یہ معاہدہ دنیا کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیا، آئندہ کسی بھی مذاکرات کے لیے قابل اعتماد فریق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ مذاکرات سیاسی نادانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنرل قاسم سلیمانی، جوہری سائنسدان طہرانچی اور دیگر شخصیات کی شہادتوں کے ذمہ دار ہیں اور امریکہ نے داعش کے وجود میں آنے میں بھی کردار ادا کیا۔
آیت اللہ خاتمی نے امریکہ کی ایرانی عوام سے دوستی کے دعوے کو کھلا جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے انقلاب اسلامی سے پہلے ایران میں ایک ظالم اور سفاک حکومت قائم کی اور جاسوسی کے ایسے نیٹ ورک چلائے جو ایرانی قوم کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی نظر میں جو بھی اس کی بدمعاشی کے خلاف مزاحمت کرے، اسے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے امریکہ کی جانب سے دیگر ممالک کی جوہری پالیسیوں پر فیصلہ سازی کے دعوے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ