مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کابینہ کے اجلاس میں اپنے حالیہ دورہ نیویارک اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے مسئلۂ جوہری پر منصفانہ حل کی کوششوں کے جواب میں غیرمنطقی اور دھونس آمیز رویہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق، وعدہ خلاف اور جابرانہ قوتیں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گی جب تک ہم ان کے سامنے سر نہ جھکا دیں۔ ہم کسی بھی صورت میں سر نہیں جھکائیں گے۔
صدر نے کہا کہ حکومت نے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے، اور عوام کی زندگی اور روزگار کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔
صدر پزشکیان نے امریکہ کی جانب سے ایران کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک قدرتی وسائل کے بغیر بھی ترقی کر رہے ہیں۔ ایران بھی اپنے ماہرین اور عوامی اتحاد کے سہارے تیل پر انحصار کم کر کے ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کبھی بھی جابروں کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ ہم عزت، خودمختاری اور عوامی طاقت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، جیسا کہ ماضی میں بھی بحرانوں سے نکل کر ترقی کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
صدر نے واضح کیا کہ ہر قسم کی پابندی اور دباؤ ایران کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ہم ہمیشہ شفاف اور منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار رہے ہیں، لیکن اگر مخالف فریق چند ماہ کی رعایت کے بدلے ہمارے تمام وسائل چھیننا چاہے اور بعد میں مزید مطالبات کرے، تو یہ طرزعمل ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب کے اس واضح فتوی کا حوالہ دیا جس میں جوہری ہتھیاروں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اور یہ مؤقف صرف حکومتی بیانات نہیں بلکہ دینی بنیادوں پر قائم ہے۔ ایران ہمیشہ منطقی، منصفانہ اور واضح اصولوں پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ایسے مذاکرات جو ملک کو نئی مشکلات میں ڈالیں، ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے۔
آپ کا تبصرہ