9 ستمبر، 2025، 4:06 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

وزارت دفاع سے وزارت جنگ: ٹرمپ کا علامتی فیصلہ یا عالمی امن کے لیے خطرناک اشارہ؟

وزارت دفاع سے وزارت جنگ: ٹرمپ کا علامتی فیصلہ یا عالمی امن کے لیے خطرناک اشارہ؟

امریکی وزارت دفاع کو وزارت جنگ کہلانے کا اقدام محض لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ ایسا پیغام ہے جو امریکہ کی پالیسیوں کو مزید جارحانہ بنا کر دنیا کو نئی بے چینی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزارت دفاع کو ’’وزارت جنگ‘‘ کے نام سے پکارنے کا اقدام دنیا بھر میں سوالات اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اگرچہ اس ادارے کا قانونی نام بدستور ’’وزارت دفاع‘‘ ہی ہے اور اس میں باضابطہ تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہے، لیکن وائٹ ہاؤس نے عوامی سطح پر فوری علامتی تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں war.gov کے نام سے سرکاری ویب سائٹ قائم کرنا اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسٹ کو ’’وزیر جنگ‘‘ کے لقب سے مخاطب کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض ایک لفظی کھیل نہیں بلکہ گہرا سیاسی اور دفاعی پیغام رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ اقدام جنگ طلبی کا کھلا اعلان ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ اس فیصلے سے امریکہ کا شدت پسند چہرہ مزید کھل کر سامنے آیا ہے اور ٹرمپ کی امن پسندی کے دعوے کی کھلی تردید ہوتی ہے۔ ’’وزارت جنگ‘‘ نام رکھنا دراصل شدت پسند لہجے کو معمول بنانے اور عالمی سطح پر مزید تناؤ پیدا کرنے کی طرف قدم ہے۔

سیاسی برانڈ سازی یا جنگی پیغام؟

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ 1947 میں منظور ہونے والے قومی سلامتی کے قانون اور 1949 کی اصلاحات کے بعد وزارت دفاع کا موجودہ ڈھانچہ مستحکم ہوچکا ہے اور صدر فرد واحد کے طور پر اس کا نام نہیں بدل سکتے۔ اس لیے ماجرا بظاہر برانڈسازی اور پروپیگنڈا ہے۔ نام بدلنے کا مطلب فوج، رائے عامہ اور عالمی برادری کو ایک کھلا پیغام دینا ہے کہ واشنگٹن اب دفاع کے بجائے حملہ و جنگ کو اپنی پالیسی میں مرکزیت دے رہا ہے۔

یہ لہجہ سب سے زیادہ امریکہ کے مخالفین اور حریفوں کے لیے واضح پیغام ہے۔ مشرق وسطی جیسے حساس خطے میں جہاں ایک چنگاری بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے، ’’وزارت جنگ‘‘ کا نام براہ راست آگ بھڑکانے اور طاقت کے بے تحاشہ استعمال کا عندیہ دیتا ہے۔ دوسری جانب امریکی اتحادی بھی اس اشارے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ یورپ، نیٹو ممالک اور عرب ریاستیں اب ایک نئی صورتحال سے دوچار ہیں جو زیادہ سخت اور مداخلت‌ پسند امریکی پالیسی کا پتہ دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے واشنگٹن پر اعتماد مزید کمزور ہوسکتا ہے اور سفارتی تناو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے اندر بھی یہ تبدیلی بے شمار اثرات کی حامل ہے۔ مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ ’’جنگ‘‘ کے لفظ کو عام کرنا امریکی سیاسی و عسکری ثقافت میں تشدد کو معمول بناسکتا ہے، فوجی ڈھانچے کو زیادہ جارحانہ بناسکتا ہے اور خطرناک مہم جوئی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ اس طرح، خواہ کانگریس کبھی بھی باضابطہ نام نہ بدلے، ٹرمپ کا یہ علامتی اور سیاسی فیصلہ عملی طور پر امریکہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر طویل المدتی اثر ڈال سکتا ہے۔

ٹرمپ کی دوغلی پالیسی: صلح یا تصادم؟

صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی تقریروں اور انٹرویوز میں بارہا خود کو ’’امن کا صدر‘‘ کہا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں کئی جنگوں کا خاتمہ کیا۔ مثال کے طور پر اگست کے آخر میں سوشل میڈیا پر انہوں نے کہا کہ میں نے صرف چھ ماہ میں چھ جنگوں کو ختم کیا ہے۔

اسی دعوے کو بنیاد بنا کر ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ انہیں نوبل امن انعام ملنا چاہیے۔ یہ بیانیہ ان کی سیاسی مہم کا مرکزی سہارا ہے، جو انہیں سابق امریکی صدور سے مختلف دکھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ حقیقت سے بہت دور نظر آتا ہے۔

ٹرمپ ایک طرف تو امن کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کا ایک ابتدائی اور علامتی فیصلہ وزارتِ دفاع کا پرانا نام ’’وزارتِ جنگ‘‘ بحال کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص خود کو جنگوں کے خاتمے کا دعوے دار بتاتا ہے، وہ سب سے بڑے فوجی ادارے کو ’’جنگ‘‘ کے نام سے کیوں یاد کرتا ہے؟ یہ واضح تضاد ان کی امن پسندی کے دعوے کو عالمی سطح پر بے وقعت بنا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ان کی حکومت کی زبان امن کے بجائے زیادہ تر جنگ کی باتیں سناتی ہے۔

صرف نام کی تبدیلی ہی نہیں، ٹرمپ کے عملی اقدامات بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی پالیسی جارحانہ اور مداخلت پر مبنی ہے۔ حالیہ امریکی فوجی کارروائیاں، چاہے مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرزمین پر حملہ ہو یا لاطینی امریکا میں وینزویلا کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم، یہ سب بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئے محاذ کھولنے کی علامت ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ان کے امن کے دعووں کی تردید کرتے ہیں بلکہ نئے بحران پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

ٹرمپ کی تضاد بیانی صرف جنگ اور امن تک محدود نہیں ہے۔ ایک طرف وہ ’’امریکا پہلے‘‘ کا نعرہ لگاتے اور بیرونِ ملک فوجی اخراجات گھٹانے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف پینٹاگون کے بجٹ میں اضافہ اور وزارتِ جنگ کی بحالی جیسے اقدامات کرکے جنگ اور تشدد کی ترویج کررہے ہیں۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ امریکہ طویل جنگوں سے تنگ آچکا ہے، لیکن عملی طور پر وہی پرانے فوجی ڈھانچے اور جنگی مداخلتوں کو مزید شدت سے انجام دے رہے ہیں۔

ان کی خارجہ پالیسی میں بھی یہی دوغلا پن نمایاں ہے۔ ٹرمپ ایک طرف ریاست سازی اور لامتناہی مداخلت کے مخالف نظر آتے ہیں، لیکن جب بھی کوئی بحران سامنے آتا ہے تو وہ دھمکی اور طاقت کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجیوں کو جنگی علاقوں سے واپس بلانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی نئی فوجی کارروائیوں کے احکامات بھی جاری کرتے ہیں اور مسلح افواج کی زیادہ سے زیادہ جارحیت پر زور دیتے ہیں۔ ان کی باتوں اور عمل میں یہ فرق دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ کو غیر یقینی اور کمزور بنارہا ہے۔

امریکا کے اندر بھی ناقدین ان پر عوام کو دھوکا دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ امن پسندی کے نعرے صرف ووٹ اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے لگاتے ہیں، لیکن عملی میدان میں ان کے فیصلے ملک کو مزید بحرانوں میں جھونک دیتے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک وزارت جنگ کا پرانا نام بحال کرنا ٹرمپ کی اصل سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جو امن کا دعوی کرتا ہے مگر اس کی زبان اور عمل سے جنگ کا پرچار کرتے ہیں۔

حاصل سخن

ٹرمپ کی طرف سے وزارت جنگ کا پرانا نام بحال کرنا محض ایک قانونی یا انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور علامتی اعلان ہے۔ ایسا اعلان جو دراصل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خارجہ پالیسی میں تشدد کی زبان کو معمول بنانے کے سوا کچھ نہیں۔

یہ قدم براہ راست ٹرمپ کے امن اور جنگوں کے خاتمے کے دعووں کو بے اعتبار بناتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ ان کے قول و فعل کا فرق دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں امریکا ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو استحکام اور سفارت کاری کا حامی نظر آنے کے بجائے جارحیت اور جنگ پسندی کی شبیہ کو دنیا میں پختہ کر رہا ہے۔

آنے والے تقریبا تین برس، جو ان کی صدارت کے باقی ہیں، بھی زیادہ امید افزا دکھائی نہیں دیتے۔ موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وائٹ ہاؤس عسکری قوت پر مزید انحصار کرے گا اور دنیا کے بحران زدہ خطوں میں زیادہ فعال اور نمایاں نظر آئے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں جھڑپوں کا امکان، اتحادیوں کی بداعتمادی اور حریفوں کی دشمنی میں مزید شدت آسکتی ہے۔

اگر ٹرمپ نے یہی راستہ اپنائے رکھا تو آنے والے تین سال امن اور سکون کا دور نہیں بلکہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک نفرت انگیز اور مہنگا مرحلہ ثابت ہوں گے؛ ایسا مرحلہ جو امریکا کی معاصر تاریخ میں تضاد اور آتش افروزی کی ایک دیرپا میراث چھوڑ جائے گا۔

News ID 1935258

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha