مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاتز نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ اور غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیل پر بھاری مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر معمولی سکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر ایران کے خطرات کے پیش نظر وزارت جنگ کے بجٹ میں اضافہ نہایت ضروری ہے تاکہ تل ابیب اپنے دفاعی اہداف اور غزہ میں جنگی منصوبوں کو جاری رکھ سکے۔
کاتز نے مزید کہا کہ وزارت جنگ کے اضافی وسائل ایران کے خطرات سے نمٹنے اور غزہ میں اہداف کے حصول کے لیے لازمی ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی چینل 13 نے رپورٹ دی تھی کہ اسرائیل کی معیشت رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں مندی کا شکار ہوئی، اور یہ کمی پہلی مرتبہ غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد ریکارڈ کی گئی۔ علاوہ ازیں ایران کے ساتھ کشمکش نے معیشت پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔
اسی طرح روزنامہ معاریو نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے اسرائیل پر اربوں ڈالر کا بوجھ ڈال دیا، جس کا تخمینہ تقریبا 14 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صہیونی میڈیا کے مطابق صرف غزہ پر حملوں کی لاگت اب تک 81 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
آپ کا تبصرہ