مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کو غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے زیادہ مضبوط اور متحرک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے غزہ میں جاری مظالم کسی بھی آزاد انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔ اسلامی ممالک کو فعال سفارتکاری اور سفارتی دباؤ کے ذریعے ان جرائم کو روکنے کے لیے متحد اور ذمہ دارانہ انداز میں کام کرنا چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمیشہ مظلوم فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت کرتا آیا ہے۔ دیگر اسلامی ممالک کو بھی اسی طرح سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ غزہ میں ہونے والے جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کی جاسکے۔
پزشکیان نے ایران پر حالیہ 12 روزہ صہیونی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم مظلوم فلسطینی عوام اور ان کے انسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم سے نفرت کرتے ہیں۔ عالمی استکبار اسی بات کو ہمارا جرم سمجھتا ہے۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا نے ان مظالم کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے اور بڑے پیمانے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کو روکا جاسکے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا کی حکومت اور عوام ایران کو خاص احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ