مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اے ایف پی (اژانس فرانس پریس) نے پہلی بار غزہ میں کام کرنے والے صحافیوں کی جانوں کو لاحق خطرات پر عالمی برادری کو خبردار کیا
تفصیلات کے مطابق AFP نے بیان جاری کرتے ہوئے غزہ میں اپنے صحافیوں کی زندگیوں کو لاحق شدید خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ان کے رپورٹرز کسی بھی وقت بھوک کے باعث جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔
فرانسیسی ایجنسی نے اپنے 10 صحافیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے آغاز سے اب تک نہایت سخت حالات کے باوجود رپورٹنگ اور ویڈیوز کی ترسیل کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں ان کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ 1944 میں اپنے قیام کے بعد سے ایجنسی نے ایسا بیان جاری کیا ہے۔
فرانسیسی ایجنسی نے زور دیا کہ غزہ میں موجود ان صحافیوں کا شمار چند باقی ماندہ مقامی صحافیوں میں ہوتا ہے، جو اس وقت خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
ایجنسی کے ایک فوٹوگرافر بشار نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ شدید کمزوری کا شکار ہوچکے ہیں اور مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔
اسی طرح، غزہ کے جنوبی علاقے میں موجود صحافی احلام نے کہا ہے کہ ان کے پاس کھانے اور پینے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔
بیان کے آخر میں فرانسیسی خبررساں ادارے نے کہا کہ ایجنسی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس کے صحافی کسی خطہ جنگ میں بھوک کی وجہ سے موت کے اتنے قریب پہنچے ہیں۔
آپ کا تبصرہ