مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی محاصرے اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں نے غزہ میں اموات کی شرح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ غاصب اسرائیل نے بارہا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی اپیلوں کو رد کیا ہے، جس کے نتیجے میں غذائی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل جنم لے چکے ہیں۔
یونیسف کے ترجمان نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو غزہ میں بچوں کی نسل ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ اب صرف ایک جنگ زدہ علاقہ نہیں بلکہ بچوں کے لیے ایک موت کی وادی بن چکا ہے، اور اس پر خاموشی عالمی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلی کارروائیوں اور امدادی رکاوٹوں کے باعث غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس پر عالمی ادارے بارہا اظہارِ تشویش کر چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ