مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے جوہری مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اس وقت اگر مذاکرات کا مقصد یہ اعتماد حاصل کرنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تلاش نہیں کر رہا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن اگر مقصد ایران کو پرامن سرگرمیوں سے محروم کرنا ہے، تو یقینی طور پر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، اور ہم اپنے پرامن جوہری پروگرام کو جاری رکھیں گے۔
عراقچی نے زور دیا کہ مذاکرات کے دوران ہم نے ایرانی قوم کے حقوق کا دفاع کیا اور ہم یقینی طور پر کسی بھی ایسے مطالبے کو مسترد کریں گے جو ایرانی قوم کے حقوق کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کے بارے میں، ایران اور مصر نے اچھے منصوبے اور اقدامات کیے ہیں، اور ہمارا موقف یکساں ہے، تاہم صیہونی رژیم کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور دھمکیاں دے رہی ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ہم نے غزہ جنگ میں صیہونی حکام کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیوں کا مشاہدہ کیا"۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغرب نے صیہونی حکومت کے جرائم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں جب کہ وہ ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ وہ ایران اور خطے کے تمام ممالک کو ان سائنسی کامیابیوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں تا کہ صیہونی رژیم کو تحفظ مل سکے۔
عراقچی نے کہا کہ صیہونی حکومت کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں لیکن مغربی ممالک کے یہ مسئلہ اہم نہیں ہے جب کہ وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں، مغرب اپنے دوہرے معیار پر نظرثانی کرے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک ایران کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اس جال میں نہیں پھنسے گی اور ایجنسی کو مغرب کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔
عراقچی نے غزہ جنگ بندی کے سلسلے میں مصر اور قطر کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ کے عوام کی حمایت میں کسی بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں اور ہم فوری جنگ بندی اور غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی کی امید کرتے ہیں۔"
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ انصار اللہ ایک آزاد مزاحمتی گروہ ہے جیسے غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہ ہیں، جو آزادانہ فیصلے کرتا ہے اور ہم خطے میں ان کی جائز کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمنی عوام فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت اور دفاع کرتے ہیں اور یمنیوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے تو وہ بحیرہ احمر میں اپنی کارروائیاں بند کر دیں گے اور ان کی کارروائیاں صرف صیہونی حکومت کی طرف بڑھنے والے اسرائیلی جہازوں یا بحری جہازوں کے خلاف ہوں گی۔"
آپ کا تبصرہ