نتین یاہو اور دیگر صیہونیوں میں کوئی فرق نہیں؛ سب مجرم ہیں/آمریکا داعش جیسے کینسر کو خطے میں لایا

انہوں نے غاصب صیہونی پارلیمانی انتخابات کے بارے میں کہا کہ نیتن یاہو اور دیگر صیہونی سیاست دانوں میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ سب کے سب مجرم ہیں۔ نیتن یاہو کے آنے یا نہ آنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نیتن یاہو کی آمد سے صیہونی حکومت کے اندر اختلاف ہی بڑھے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب الله کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصرالله نے آج جمعہ کے دن مقاومت اسلامی کے یوم شہداء کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں کہا کہ صیہونی فوجی ہیڈ کوارٹر پر شہید احمد القصیر کی فدائی کارروائی کے دن کو یوم شہداء کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو ایسی کارروائی کی توقع نہیں تھی۔ اس حملے میں نہ صرف صیہونی فوجی ہیڈ کوارٹر زمین بوس ہوا بلکہ دشمن کی تمام آرزوئیں بھی چکنا چور ہوگئیں۔ احمد القیصر کے فدائی حملے نے سرزمین لبنان کی آزادی کے پہلا مرحلے کی بنیاد رکھی۔ حزب الله کے سربراہ نے کہا ہے کہ شہید احمد القصیر نے صیہونی دشمن کے خلاف جہاد اور فدائی حملوں کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ صیہونی دشمن کے خلاف اس طرح کے حملوں میں وسعت آئے گی، چاہے یہ حملے فلسطینیوں یا لبنانیوں کے مضبوط ہاتھوں سے انجام ہائیں۔

سید حسن نصرالله نے صراحت کے ساتھ کہا کہ آج چالیس سال بعد بھی ہم اپنے شہداء کی برسی منا رہے ہیں، ہمارے بہت سے بھائی اور بہنیں اس دنیا سے جا چکے ہیں، ان سب نے مقاومت کو اپنی زندگی دی۔ ان میں سے بہت سے علماء، کمانڈرز اور مرد و خواتین شہداء ہیں، جو ہمیشہ اگلے محاذوں پر نظر آئے۔ شہداء کے بچے مزاحمتی اور کمانڈنگ فورس بن چکے ہیں اور یہ سب ان کے خاندانوں کی فتح تک مزاحمت پر قائم رہنے کی وجہ سے ہے۔ ہم ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے مقدسات، وطن، آزادی، وقار اور سلامتی کے لیے قربانیاں دیں۔ ہمارے شہداء معروف ہیں، جب کہ ان میں سے بعض کی لاشیں اب بھی اسرائیلی دشمن کے پاس ہیں، جو ان کے وجود سے انکاری ہیں۔

سید حسن نصرالله نے کہا کہ یوم شہید تمام شہداء کا دن ہے۔ ایران، بحرین، فلسطین، عراق، یمن، شام اور مقاومتی مرکز کے تمام شہید ہمارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ وہ ہیں، جنہوں نے اپنے بچوں کو شہادت کی ترغیب دی یا انہیں شہادت سے نہیں روکا۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمارے چالیس سالہ راستے کے تسلسل میں شہداء کے لواحقین کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کو شہید ہونے کی ترغیب دی بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ شہداء کے راستے کی حفاظت کی۔ ہمارے معاشرے نے بھی شہداء کی پیش کردہ اقدار پر یقین رکھتے ہوئے اس راستے کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے صیہونی حکومت کی کمزوری اور تنگدستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداء کے خون کی بدولت صیہونی دشمن اس مرحلے تک پہنچا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ جس طرح ہم نے اپنے اسیروں کو جیلوں میں تنہاء نہیں چھوڑا، اسی طرح لاپتہ افراد کو بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے بلکہ اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے بہت سے افراد لاپتہ ہیں، ہم اپنے شہداء اور لاپتہ افراد کی لاشیں نہیں چھوڑیں گے، ہم اس مسئلے کو حل کرکے رہیں گے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مقاومت کی پہلی، دوسری اور تیسری نسل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایسے بھی شہداء ہیں، جن میں باپ، بیٹے اور پوتے تک شامل ہیں، اس طرح کی مثالیں ایک پوری نسل کے مزاحمتی کردار کو روشن کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج دشمن مختلف ذرائع سے ہمارے معاشرے اور نوجوانوں پر حملہ آور ہے۔ دشمن ہماری نسلوں کو جدید ٹیکنالوجی سے خراب کرنے اور ان کے عقائد کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ ان کی نسلوں کا شہداء کے راستے کی پیروی کرنا، دشمن کی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کو ثابت کرتا ہے۔ دشمن تمام مقبوضہ فلسطین میں حیران رہ گیا، جب وہ ہماری نوجوان نسل پر اثر انداز ہونے اور انہیں اپنے نظریات بدلنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا۔ شہید "عدی التمیمی" اور دیگر مزاحمتی بھائیوں نے دشمن کے تصور کو شکست دینے کی تصدیق کر دی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ دشمن تیسری نسل اور ان کی استقامت سے حیران ہیں۔

انہوں نے صیہونی پارلیمانی انتخابات کے بارے میں کہا کہ نیتن یاہو اور دیگر صیہونی سیاست دانوں میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ سب کے سب مجرم ہیں۔ نیتن یاہو کے آنے یا نہ آنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نیتن یاہو کی آمد سے صیہونی حکومت کے اندر اختلاف ہی بڑھے گا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہمارے نزدیک اسرائیلی حکومت کی تمام کابینہ مجرم ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے حالیہ انتخابات کے نتائج ہمارے لیے فیصلہ کن نہیں ہیں، کیونکہ اس حکومت کی تمام جماعتیں اپنے جرائم میں یکساں ہیں۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ممکن ہے کہ اسرائیلی حکومت کے انتخابی نتائج فلسطین کے لئے سنگین ہوں، کیونکہ اسرائیل میں اقتدار بیوقوفوں کے ہاتھ میں ہوگا، جبکہ ہم احمقوں سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی آمد سے صیہونی حکومت میں اختلاف مزید شدت اختیار کرے گا۔ صیہونی ریاست کے انتخابات اس رژیم کے اندر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں اور بڑی سطح پر تصادم ظاہر ہوسکتا ہے۔ یہ انتخاب شدید اختلافات کو ہوا دے گا اور مستقبل میں اس رژیم کو متاثر کرے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسرائیل میں احمقوں کے اقتدار میں آنے سے یہ غاصب ریاست تیزی سے رو بہ زوال ہوگی۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے صیہونی ریاست اور لبنان کے درمیان سمندری حدود کے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ امریکہ کی ضمانت پر اس معاہدے کی حفاظت کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لبنان کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں، جو کہ اصل ضمانت ہے، ہم سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے مقاومتی فورسز کے علاوہ کسی اور عنصر پر اعتماد نہیں کرسکتے

سید حسن نصرالله نے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے بدلنے سے خطے میں امریکی پالیسیاں نہیں بدلتی، ہاں طریقہ کار میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ امریکی انتخابات کے نتائج سے کچھ نہیں بدلنے والا، کیونکہ امریکہ کا ریپبلکن اور ڈیموکریٹس ہر ایک کے ساتھ ایک ہی چہرہ ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے خطے میں دہشت گرد گروہوں کی تشکیل، پرورش اور حمایت کے امریکی منصوبوں کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں داعش جیسی بیماری لایا۔ انہوں نے لبنان اور حزب اللہ کے خلاف امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیانات کے ردعمل میں کہا کہ امریکہ خطے میں نفرت اور طاعون کی بنیاد ہے، یہ حزب اللہ ہی تھی، جس نے لبنان سے امریکہ کے شر اور نحوست کو ختم کرتے ہوئے اس بیماری سے بچایا۔ سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے اس امریکی لعنت اور طاعون کا سامنا کیا، جبکہ یہ امریکہ ہی تھا، جو لبنان میں تکفیری دہشت گرد لے کر آیا اور حزب اللہ نے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ امریکہ ہی تھا، جس نے 2019ء میں اپنے منصوبوں کی ناکامی کے بعد لبنان میں مظاہروں کی حمایت کی اور افراتفری پھیلانے پر زور دیا، جس کا حزب اللہ اور ہماری غیور عوام کو سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ لبنان میں غیر ملکی سرمایہ کاری روک کر ہماری اقتصادی ناکہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک کو لبنان کی معاشی بحران میں مدد کرنے سے روکتا ہے، جو کہ ایک مطعون فعل ہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا لبنان نئی ​​روسی امداد قبول کرے گا یا امریکی دھمکیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا؟ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ مقاومت لبنان کی بنیادی طاقت کے عوامل میں سے ایک ہے اور امریکہ اب بھی لبنان میں انتشار اور خانہ جنگی کے آپشن پر کام کر رہا ہے۔ امریکہ اعلان کرتا ہے کہ وہ لبنانی فوج کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ لبنانی فوج، مقاومت سے نمٹنے کی اہل ہے، جبکہ ہمیں فوج اور اس کی کمان پر بھروسہ ہے، جو مزاحمت کے ساتھ کسی بھی تصادم کو مسترد کرتی ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے ایران میں حالیہ انتشار اور دشمنوں کی اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر امریکی و اسرائیلی سازش کو ناکام بنا دیا، جس سے ان کے ملک کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل، مغرب کے فتنے اور سازش کو شکست دی اور ایک بڑی اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ یہ فتح ایران کی قدرت میں مزید اضافہ کرے گی اور اسے مزید طاقتور بنائے گی۔ انہوں لبنان میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایندھن کی سپلائی پر ایرانی حکام کی رضامندی کی جانب اشارہ کیا، انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ایران نے ہم سے لبنان کو ایندھن فراہم کرنے کی بات کی، تاکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی آسکے، اسی سلسلے میں ایک تکنیکی وفد ایران گیا، وزیر توانائی سیاسی آدمی ہونے کی وجہ سے تہران نہیں گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایران سے 10 گھنٹے بجلی کے لئے ایندھن کی فراہمی پر رضامندی حاصل کی، لیکن امریکیوں کی شرارت کی وجہ سے یہ منصوبہ روک دیا گیا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ لبنانی وفد الجزائر گیا اور سوناطرک سے کہا کہ وہ لبنان واپس آکر ایندھن بیچیں اور وہ ان سے خریدیں گے، جبکہ ایران ایک ایسا دوست ہے، جو لبنان اور اس کے عوام کے مفادات چاہتا ہے۔

News Code 1913117

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha