بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان خاتون لکچرار نے حجاب اتارنے کے بجائے استعفی دیدیا

بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناروا اور متعصبانہ سلوک جاری ہے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں ایک مسلمان خاتون لیکچرارنے حجاب اتارنے کا حکم ماننے کے بجائے استعفی دے دیا۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناروا اور متعصبانہ سلوک جاری ہے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج  میں ایک مسلمان خاتون لیکچرارنے حجاب اتارنے کا حکم ماننے کے بجائے استعفی دے دیا۔ کرناٹک کے کالج میں انگلش ڈپارٹمنٹ کی مسلم خاتون  لیکچرار نے حجاب اتارنے کا حکم ماننے سے انکارکرتے ہوئے نوکری چھوڑ دی۔

لیکچرار چاندنی نےکالج پرنسپل کوبھیجے گئے استعفے میں کہا کہ حجاب اتارنے کے حکم سے میری عزت نفس مجروح ہوئی۔  پچھلے 3 سال سے حجاب کرکے کالج آرہی ہوں۔ مذہبی آزادی کا حق آئین دیتا ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔حجاب پرپابندی کے غیرجمہوری اقدام کی مذمت کرتی ہوں۔ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب کرنے پرپابندی عائد ہے جس کے خلاف مقدمہ کرناٹک ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں نے بھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف سرد جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

News Code 1909894

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =