ویانا مذاکرات میں ایران کی توجہ پابندیوں کے خاتمہ پر مرکوز ہوگي

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ویانا مذاکرات میں ایران کی توجہ پابندیوں کے خاتمہ پر مرکوز ہوگی ۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کی ویانا مذاکرات میں ایران توجہ پابندیوں کے خاتمہ پر مرکوز ہے۔

انھوں نے ایران اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے درمیان تعاون کے بارے میں کہا کہ ایران کا قواعد اور ضوابط کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری ہے ۔اور ایران قواعد اور ضوابط سے ماوراء کسی چیز کو قبول نہیں کرےگا۔ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ گروسی تہران کے دورے پر آرہے ہیں اس سفر میں ایران اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے درمیان فنی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔

ایران 4 ملین افغان مہاجرین کا میزبان

خطیب زادہ نے افغانستان کے موجودہ شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بارے میں ایران کا مؤقف واضح اور روشن ہے ۔ ہم گذشتہ 4 دہائیوں میں 4 ملین افغان شہریوں کے میزبان رہے ہیں۔ بہت سے افغان شہری اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ سبق پڑھ رہے ہیں اور ہمارے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپی ممالک میں مہاجرین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت امن و صلح برقرار ہوگی جب وہاں ایک جامع اور مشترکہ حکومت تشکیل پائےگی ۔ افغانستان میں جامع اور مشترکہ حکومت کی تشکیل کا مطالبہ ایک عالمی مطالبہ ہے۔

ویانا مذاکرات میں ایران توجہ پابندیوں کے خاتمہ پر مرکوز

خطیب زادہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک اعلی ٹیم مذاکرات کے لئے ویانا روانہ ہوگی اور ویانا مذاکرات میں ایران توجہ پابندیوں کے خاتمہ پر مرکوزرہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایران عملی طور پر پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور پابندیوں کے خآتمہ کے سلسلے میں امریکہ کو معتبر ضمانت دینی چاہیے۔

امریکہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار

انھوں نے کہا کہ امریکہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہے کیونکہ امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہو کر اس معاہدہ کو نقض کیا ہے۔

News Code 1908918

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =