دشمن کے مد مقابل سب کو ایک آواز اور متحد ہونا چاہیے/ مجادلات سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوتی ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کی گیارہویں پارلیمنٹ کے نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کے مد مقابل سب کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ تمام مشکلات قابل ہیں اور مشکلات کے حل کے سلسلے میں پارلیمنٹ کو مخلصانہ اور مؤثر انداز میں کام کرنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کی گیارہویں پارلیمنٹ کے نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کے مد مقابل سب کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ تمام مشکلات قابل ہیں اور مشکلات کے حل کے سلسلے میں پارلیمنٹ کو مخلصانہ اور مؤثر انداز میں کام کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کروناوائرس کے دوبارہ پھیلاؤ پر افسوس کا اظہارکیا اور عوام کو طبی دستورات کی مکمل رعایت کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا: عوام کو ایک بار پھر باہمی تعاون اور امداد کی تحریک کے ذریعہ کمزور طبقوں ، نیازمندوں اور ضرورتمندوں کی حمایت کرنی چاہیے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقتصادی دباؤ اور دشمن کے مایوس کن پروپیگنڈے کے باوجود پارلیمنٹ کے انتخابات میں عوام کی شرکت کو قابل قبول  اور امید افزا قراردیا اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کوعوامی مشکلات کو حل کرنے کی سفارش  کرتے ہوئے فرمایا: پارلیمنٹ کے نمائندوں کو اپنے اس اہم مقام اور منصب کی قدر کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گیارہویں پارلیمنٹ کو انقلاب اسلامی کے بعد قوی ، مضبوط  اور انقلابی پارلیمنٹ قراردیتے ہوئے فرمایا: گیارہویں پارلیمنٹ میں باتجربہ ، انقلابی اور درخشاں سوابق کے حامل نمائندوں کے ہمراہ مؤمن ، با صلاحیت اور ولولہ انگیزجوانوں کے حضور کے نتیجے میں گیارہویں پارلیمنٹ بہت اچھی اور امید افزا پارلیمنٹ میں تبدیل ہوگئی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پارلیمنٹ کے نمائندوں کی توجہ ملک کے اساسی اور کلیدی مسائل کی طرف مبذول کرتے ہوئے فرمایا: پیداوار، روزگار کی فراہمی، مہنگائی پر کنٹرول ، تیل سے عدم وابستگی اور ملک کے مالی نظام کی صحیح مدیریت اہم مسائل ہیں جن پر پارلیمنٹ کے نمائندوں کو خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملکی مشکلات کو حل کرنے اور ملک کی ترقی اور پیشرفت کے سلسلے میں تینوں قوا کے درمیان تعاون کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: قوہ مجریہ اور قوہ قضائیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ دستورات پر عمل کریں اور دوسری طرف پارلیمنٹ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی ظرفیتوں اور صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قوانین مرتب کرے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دیگر اداروں پرپارلیمنٹ کی نظارتی ذمہ داری کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: پارلیمنٹ کو خردمندی، متانت اور حکمت عملی کے ساتھ اپنی اس ذمہ د اری کو احسن طریقہ سے انجام دینا چاہیے۔

News Code 1901539

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =