یورپین عدالت نے فلسطینیوں کے حامی کارکنوں کے خلاف فرانسیسی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا

انسانی حقوق کی یورپین عدالت نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارِ کرنے والے کارکنوں کے خلاف فرانسیسی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فلسطین الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انسانی حقوق کی یورپین عدالت نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارِ کرنے والے کارکنوں کے خلاف فرانسیسی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔ یورپین عدالت کی جانب سے متفقہ طور پر سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی عدالت کا فیصلہ آرٹیکل 10 کے تحت ان کارکنوں کے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

 اطلاعات  کے مطابق فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والی سول سوسائٹی کے ارکان نے 26 ستمبر 2009 اور 22 مئی 2010 کو دو علیحٰدہ علیحٰدہ واقعات میں فرانس کے سپر اسٹور میں اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کیلئے ایک پر امن جدوجہد شروع کی تھی۔

ان علامتی مظاہروں کے دوران یہ کارکن سپر مارکیٹ میں آنے والے لوگوں سے اپیل کرتے تھے کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، کیونکہ اسرائیل نہ صرف فلسطینی علاقوں پر جبری قبضہ کر رہا ہے بلکہ وہ وہاں کے وسائل سے بنائی جانے والی مصنوعات کو اپنی مصنوعات کہہ کر بیچ رہا ہے۔ 

جس پر ان کارکنوں کے خلاف 2015 میں فرانس کی عدالت نے نفرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف کولیکٹیف فلسطین 68 نامی گروپ سے تعلق رکھنے والے یہ کارکن انسانی حقوق کی یورپین عدالت میں چلے گئے جہاں سے ان کارکنوں کے حق میں فرانسیسی عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ان کارکنوں کی پر امن جدوجہد کے حق کو تسلیم کر لیا گیا ہے ۔

News Code 1900870

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 7 =