پاکستان پرقرض میں گذشتہ 15 ماہ کے عرصہ میں 40 فیصد اضافہ ہوا

گذشتہ 15 ماہ کے عرصے میں پاکستان کے سرکاری قرض اور واجبات میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز کر کے فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (ایف آر ڈی ایل اے) کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ گذشتہ 15 ماہ کے عرصے میں پاکستان کے سرکاری قرض اور واجبات میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز کر کے فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (ایف آر ڈی ایل اے) کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا۔اطلاعات کے مطابق پاکستان پر قرضوں کے حوالے سے پارلیمان میں پیش کیے گئے پالیسی بیان میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018 کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290 کھرب 87 ارب 90 کروڑ روپے تھے جو ستمبر 2019 تک 410 کھرب 48 ارب 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے یعنی اس میں 39 فیصد یا 110 کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔  مالی سال 2019 کے اختتام تک مجموعی قرض اور واجبات میں 35 فیصد یا 100 کھرب 34 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 402 کھرب 23 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف آر ڈی ایل اے چاہتی ہے کہ وفاقی حکومت وفاقی مالیاتی قرض کو کم کرنے کے اقدامات کرے اور مجموعی سرکاری قرضوں کو دانشمندانہ حدود کے اندر رکھے۔ اس کے لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ مالی سال 19-2018 سے شروع کرکے 3 سال میں غیر ملکی گرانٹس کے علاوہ وفاقی مالیاتی قرض مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کا 4 فیصد کیا جائے اور اس کے بعد اس کو جی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 فیصد تک برقرار رکھا جائے۔

پالیسی بیان میں بتایا گیا کہ ’مالی سال 19-2018 کے دوران وفاقی مالیاتی خسارہ (گرانٹس کے علاوہ) 3 ہزار 635 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 9.4 فیصد تک پہنچ گیا جو 4 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ مالی سال 20-2019 میں ایک غیر متوقع اور یکطرفہ عنصر وفاقی مالیاتی خسارے کی مد میں جی ڈی پی کا 2.25 فیصد رہا۔ پالیسی بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2018 کے اختتام تک قرض اور اخراجات جی ڈی پی کے 86.3 فیصد سے بڑھ کر ستمبر 2019 کے اختتام تک 94.3 فیصد تک پہنچ گئے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ 15 ماہ میں حکومت کا مقامی قرض 38 فیصد سے بڑھ کر 62 کھرب 34 ارب روپے ہوگیا جبکہ اسی عرصے کے دوران غیر ملکی قرض بھی 36 فیصد یا 28 کھرب بڑھ کر 77 کھرب 96 ارب سے 105 کھرب 9 ارب روپے تک جا پہنچا۔

News Code 1897484

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 6 =