فیس بک انتظامیہ کا بچوں کے ساتھ بدسلوکی پر مبنی ایک کروڑ پوسٹوں کو ہٹا دیا

فیس بک انتظامیہ نے 3 ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ بدسلوکی، جنسی استحصال اور تشدد پر مبنی ایک کروڑ سے زائد پوسٹوں کو ہٹادیا ہے۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فیس بک انتظامیہ نے 3 ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ بدسلوکی، جنسی استحصال اور تشدد پر مبنی ایک کروڑ سے زائد پوسٹوں کو ہٹادیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں جس میں رواں سال جولائی سے ستمبر کے درمیان بچوں کے ساتھ بدسلوکی، ان پر ہونے والے تشدد، بچوں کے ساتھ جنسی استحصال اور خودکشی جیسے نقصان دہ مواد پر مشتمل ایک کروڑ 16 لاکھ پوسٹیں ہٹائی ہیں۔ یہ نقصان دہ مواد نہ صرف فیس بک سے بلکہ انسٹاگرام سے بھی ہٹایا گیا ہے۔

سال 2017 میں ایک 14 سالہ مولی رسل نامی بچی نے خودکشی کرلی تھی جس کے بعد عوام کا سوشل میڈیا کے  حوالے سے غم و غصہ سامنے آیاتھا۔ مولی کی خودکشی کے بعد اس کے والد کو اپنی بیٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے خود کو نقصان پہنچانے اورخودکشی کے بارے میں بڑی تعداد میں مواد ملاتھا۔

 فیس بک کے نائب صدرگائے روزن کا کہنا ہے کہ ہم ایسا مواد ہٹاتے ہیں جو خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہو اور اس مواد کو دیکھ کر دوسرے بھی حوصلہ افزائی حاصل کریں۔ فیس بک کمیونٹی معیارات کے نفاذ کی چوتھی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال اور عریانی سے متعلق مواد رکھنے والی فیس بک کی ایک کروڑ 16 لاکھ پوسٹیں جب کہ انسٹاگرام کی 7 لاکھ 54 ہزار پوسٹیں ہٹائی گئیں۔

خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق فیس بک کی 25 لاکھ اور انسٹاگرام کی 8 لاکھ 45 ہزار پوسٹیں ہٹائی گئیں۔منشیات کی فروخت سے متعلق فیس بک کی 44 لاکھ اورانسٹاگرام کی 15 لاکھ پوسٹیں ہٹائی گئیں۔اسلحے کی فروخت سے متعلق فیس بک کی 23 لاکھ جب کہ انسٹاگرام کی 58 ہزار 600 پوسٹیں ہٹائی گئیں۔ اس کے علاوہ انسٹاگرام سے دہشتگرد پروپیگنڈہ کرنے والی ایک لاکھ 33 ہزار 300 پوسٹیں ہٹائی گئیں۔

News Code 1895395

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =