ہندودہشت گردوں کا بابری مسجد کے بعد تاج محل کو تیج مندر بنانے کا منصوبہ

بابری مسجد پر بھارتی سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بعد شدت پسند بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ تاج محل بھی ایک مندر کو گرا کر بنایاگیاتھا اورعنقریب تاج محل کی جگہ بھی تیج مندر بنایا جائےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بابری مسجد پر بھارتی سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بعد شدت پسند بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن اسمبلی وینے کتیار نے دعویٰ کیا ہے کہ تاج محل بھی ایک مندر کو گرا کر بنایاگیاتھا اورعنقریب تاج محل کی جگہ بھی تیج مندر بنایا جائےگا۔ الجزیرہ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے رکن اسمبلی وینے کتیار نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تاج محل دراصل تیج مندرکوگراکراس کی جگہ تعمیر کیاگیااور بہت جلد تاج محل کو تیج مندرمیں تبدیل کردیاجائے گا۔وینے کتیار جو کہ بابری مسجد کی شہادت میں کردار اداکرنےکے مقدمے کا سامنابھی  کررہے ہیں پہلے بھی اس طرح کے بے بنیاد دعوے کرچکے ہیں۔اکتوبر دوہزار سترہ میں انہوں نے ایسا ہی ایک دعویٰ کیاتھا تاہم اس وقت ان کا کہنا تھا کہ تاج محل شیو مندر کو گراکربنایاگیا ہے۔ ماضی میں کئی دوسری سخت گیر ہندوشخصیات بھی اس طرح کے دعوے کرتی رہی ہیں تاہم بھارت کے ماہرین آثار قدیمہ عدالت میں بیان دے چکے ہیں کہ تاج محل کسی مندر پر نہیں بنایاگیابلکہ ایک مقبرے پر بنایاگیاتھااوروہ مسلمانوں کی ہی جگہ تھی۔ واضح رہے کہ نئی دہلی سے دو سوکلومیٹر دور آگرہ میں موجود سفیدسنگ مرمر سے تیاریہ شاندار محل سترہویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایاتھا۔

News Code 1895323

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =