امریکی ایوان نمائندگان نے ترکی کے خلاف نسل کشی کا بل منظور کرلیا

امریکہ کے ایوان نمائندگان نے سرکاری سطح پر سلطنت عثمانیہ کو نوے کی دہائی کے آغاز سے وسط تک آرمینیائی قوم کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا ہے جب کہ کردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے ایوان نمائندگان نے سرکاری سطح پر سلطنت عثمانیہ کو نوے کی دہائی کے آغاز سے وسط تک آرمینیائی قوم کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا ہے جب کہ کردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے 1915 سے 1923 کے درمیان 15 لاکھ سے زائد آرمینیائی مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام پر سلطنت عثمانیہ کو مرتکب ٹھہرانے کے لیے قرارداد پیش کی ، جس کی حمایت میں 405 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں صرف 11 ووٹ آئے، علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے کردوں کیخلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو آرمینیائیوں کی نسل کشی پر ترکی کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے لیے 19 برس سے کوششیں جاری تھیں جو کسی نہ کسی مرحلے پر دم توڑ جاتی تھیں تاہم اس بار نہ صرف قرار داد پیش ہوئی بلکہ اسے تالیوں کی گونج میں کثرت رائے سے منظور بھی کرلیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں لاکھوں آمینیائی باشندوں کی ہلاکت کو 30 ممالک سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہیں جس میں نیا اضافہ امریکہ ہے تاہم ترکی اس الزام کو مسترد کرتے آیا ہے۔ ترکی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قراداد پر شدید ردعمل دیا ہے اور جلد ہی صدر طیب اردوغان آرمینیائی نسل کشی اور پابندیوں پر پالیسی بیان جاری کریں گے۔

News Code 1895017

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 0 =