اردوغان نےامریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے/ ترکی و امریکہ کا جنگ بندی معاہدے پر اتفاق

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی پابندیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے میڈل ایسٹ آئی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی پابندیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ ترکی نے شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن روکنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے اور اس سلسلے میں امریکہ اور ترکی کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدہ طے پانے کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی پر مزید سخت پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مابین 2 گھنٹے کی ملاقات کا وقت طے کیا گیا تھا لیکن یہ ملاقات 4 گھنٹے تک جاری رہی۔ ترک صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک پینس نے بتایا کہ ترکی کے ساتھ شام میں کردوں کے خلاف سیز فائر کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ عارضی جنگ بندی 120 گھنٹے کیلئے کی گئی ہے جس کے دوران کردوں کو متاثرہ علاقوں سے نکلنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور امریکہ نے شام میں سیف زون کے قیام پر اتفاق کیا ہے، ترکی اور امریکہ داعش کے خلاف متحد ہیں، داعش کی شکست دونوں ملکوں کا مشترکہ مفاد ہے۔مائیک پینس نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے وہ سیز فائر پر بہت خوش ہیں۔امریکی نائب صدر نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد ترکی پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ روک دیا گیا، جس وقت جنگ بندی کا مستقل معاہدہ طے پاجائے گا اس وقت ترکی پر پیر کے روز عائد کی جانے والی پابندیاں بھی اٹھالی جائیں گی۔

News Code 1894660

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =