سعودی عرب کی طرف سے افریقی ممالک میں وہابیت کے فروغ کے سلسلے اربوں ڈالرز کا خرچہ

سعودی عرب کی امریکہ نوازوہابی حکومت افریقی ممالک میں وہابیت کے فروغ کے سلسلے میں سالانہ اربوں ڈالرز صرف کررہی ہے اوراسلام و مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے فرقہ وارانہ تصادم میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی امریکہ نوازوہابی حکومت افریقی ممالک میں وہابیت کے فروغ کے سلسلے میں سالانہ اربوں ڈالرز صرف کررہی ہے اوراسلام و مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے فرقہ وارانہ تصادم میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ سرزمین حجاز پر آل سعود کی حکومت کا سلسلہ ایک صدی سے بھی زائد عرصہ سے جاری ہے اور اس مدت میں سعودی عرب نے مختلف ممالک خاص طور پر افریقی ممالک میں وہابیت کے فروغ میں بہت بڑا اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

افریقہ کا مشرقی علاقہ براعظم افریقہ کا اہم علاقہ ہے جس پر سعودی عرب نے 1960 کی دہائی سے وہابیت کے فروغ کے سلسلے میں خاص توجہ مبذول کررکھی ہے۔یوگينڈا ، تانزانیا اور کینیا میں وہابیت کے فروغ کے سلسلے میں سعودی عرب نے خاص توجہ مبذول کی۔ اور وہاں کی مسلمان اور سنی آبادی کو مال و دولت ، طاقت اور تبلیغ کے ذریعہ وہابیت کی طرف موڑنے کی بھر پور کوشش کی۔

سعودی عرب نے وہابی نظریات کو مشرقی افریقی ممالک میں فروغ دینے کے سلسلے میں اربوں ڈالر صرف کئے ہیں ، سعودی عرب نے اس علاقہ میں مساجد، مدارس اور مکانات کی تعمیر کے سلسلے میں کافی امداد فراہم کی اور ڈالروں کی مدد سے افریقی ممالک کے مسلمانوں کو وہابیت کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سعودی عرب کے مختلف زبانوں میں 70 تبلیغی چینل فعال اور سرگرم ہیں۔

افریقی ممالک میں وہابیت کے برخلاف شیعیت کو طبیعی اور قدرتی طور پر فروغ ملا، افریقی ممالک میں شیعیت کے فروغ میں ایران کا کوئي کردار نہ تھا نہ ہے ۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے 40 سالہ دور میں کسی بھی ایرانی حاکم نے افریقی ممالک میں شیعیت کے فروغ کے سلسلے میں حتی لفظی حمایت بھی نہیں کی، کیونکہ افریقی ممالک میں شیعیت کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں رہا ۔ افریقی ممالک میں شیعیت کو خود بخود اور قدرتی طور پر فروغ حاصل ہوا ہے جسے دبانے کے لئے سعودی عرب مال و زر اور طاقت کا بے جااستعمال کررہا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق وہابیوں کے بڑے بڑے علماء، آئمہ جمعہ و جماعات اور ملاؤں نے سعودی عرب کی دانشگاہوں اور مدارس میں تعلیم اور تربیت حاصل کی ۔ اور ہزاروں وہابی ملاؤں کو سعودی عرب سے وہابیت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلے میں دوسرے ممالک میں روانہ کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کی افریقی ممالک میں تبلیغات کا سلسلہ " رابطہ العالم الاسلامی " ادارے کے ذریعہ انجام پذیر ہوتا ہے۔ اس تنظیم کا اصلی مرکز مکہ مکرمہ میں ہے اور یہ تنظیم گذشتہ 50 سال سے وہابیت کی تبلیغ اور ترویج کے سلسلے میں سرتوڑ کوشش کررہی ہے۔" رابطہ العالم الاسلامی " ادارے کی جانب سے ہر سال ہزاروں کتابیں اور مجلات و اخبارات بھی شائع کئے جاتے ہیں۔ سعودی عرب نے وہابیت کو آج امریکہ اور اسرائیل کا قوی اور مضبوط بازو بنا دیا ہے۔ وہابیت نے مسئلہ فلسطین سے عالم اسلام کی توجہ ہٹانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں افغانستان، عراق، شام، یمن اور لیبیا جیسے درجنوں مسائل عالم اسلام میں پیدا کئے اور تمام دہشت گرد تنظیموں کا تعلق بھی وہابی مکتبہ فکر سے ہے جن کا اصلی مرکز سعودی عرب میں ہے جہاں سے انھیں فکری مدد کے ساتھ ساتھ مالی مدد بھی ملتی ہے۔ وہابی دہشت گرد تنظیموں میں القاعدہ، النصرہ فرنٹ، بوکوحرام، الشباب، طالبان اور داعش جیسی خوفناک تنظیمین شامل ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کے اکثر کمانڈروں کا تعلق بھی سعودی عرب سے رہا ہے آج بھی سعودی عرب بڑے پیمانے پر دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کررہا ہے۔

News Code 1893342

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 15 =