امریکہ کو مذاکرات سے قبل ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں امن و سلامتی اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے ایران کے خلاف مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں پابندیوں کو ختم کردینا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں امن و سلامتی اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے ایران کے خلاف مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں پابندیوں کو ختم کردینا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے 110 ہزار گھروں کی تعمیر پر مشتمل منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ شہید بہشتی، شہید مطہری، شہید رجائی ، شہید باہنر جیسے بزرگ شہیدوں اور دیگر شہداء نے ہمیں عوامی خدمات کے سلسلے میں  اخلاص اور فداکاری کے بہترین سبق سکھائے ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ ہم باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ مشکلات سے عبور کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں یہ فہم و شعور اور نعمت عطا کی ہے اور ہم باہمی اتحاد کے ساتھ مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 2 سال تک 6 عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات انجام دیئے اور آج بھی 5 طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہمیں کسی کے ساتھ فوٹو بنوانے کی خواہش نہیں ، اگر انھوں نے مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کیا تو ہم بھی اپنے وعدوں پر عمل جاری رکھیں گے اگر انھوں نے عمل نہ کیا تو ہم بھی اپنے وعدوں پر عمل ترک کردیں گے کیونکہ معاہدہ یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔

صدر حسن روحانی نے اسلامی جمہوریہ کے نام سے موسوم ایک شہر بنانے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اگر 50 سال بعد یا آئندہ آنے والی نسلوں نے پوچھا کہ فلاں معماری صفویہ اور قاجار دور کی ہے اسلامی جمہوریہ کی معماری کہاں ہے؟ تو ہم اسلامی جمہوریہ شہر کے ذریعہ اسلامی ایرانی معماری آئندہ آنے والی نسلوں کے سامنے پیش کرسکیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ ہم آج اصفہان میں صفویہ دور کے انجینئروں کی معماری پر فخر کرتے ہیں۔ میدان نقش جہاں دنیا کے خوبصورت میادین میں شامل ہے۔ ہمیں بھی آئندہ نسلوں کے لئے معماری کے میدان میں بہترین یادگاریں چھوڑنی چاہییں ۔

News Code 1893264

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 15 =