ٹیکساس میں امریکی صدر ٹرمپ کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ

امریکہ نسل پرستوں کے ہاتھوں دو امریکی ریاستوں میں امریکی شہریوں کے قتل کی تازہ وارداتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عوام کو مشتعل کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سی این این کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نسل پرستوں کے ہاتھوں دو امریکی ریاستوں میں امریکی شہریوں کے قتل کی تازہ وارداتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عوام کو مشتعل کردیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیکساس آمد پر نسل پرستی کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین سے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ نفرت برداشت نہیں، دہشت گردی روکی جائے۔امریکی صدر کو اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں دورے کے دوران بھی مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے، امیگریشن اور گن کنٹرول کی حمایت میں تقاریرکیں۔

مظاہرین نے الپاسومیں فائرنگ کو امیگرینٹس کے خلاف داخلی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ الپاسو خطرناک ترین نہیں نسلی ہم آہنگی کا نمونہ شہر ہے۔

ڈیٹن میں اسپتال کے دورے کے موقع پر ٹرمپ کے خلاف سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نسلی تفریق اور کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیا اور نعرے لگائے کہ اوہائیو صدر ٹرمپ کو خوش آمدید نہیں کہتا ہے۔واضح رہے کہ ٹیکساس کے علاقے الپاسو میں نسل پرستوں نے فائرنگ کر کے 22افراد کو ہلاک جبکہ ڈیٹن میں 9 افراد کو قتل کر دیا تھا.

News Code 1892785

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 0 =