دہلی میں نریندر مودی کی حکومت کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف ہزاروں لوگوں نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف ہزاروں لوگوں نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے کشمیر سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فیصلے کو بھارتی جمہوریت کی موت قرار دیا۔ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری دورآئیسمے راجا نے کہا کہ جس طرح بی جے پی قانون لائی اور جس طرح انہوں نے 370 آرٹیکل کو منسوخ کیا وہ دراصل بھارت میں جمہوریت اور آئین پر قاتلانہ حملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’بی جے پی نے ہماری جمہوری اقدار کے بنیادی اصولوں پر وار کیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بی جی پی کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے تاہم لوگوں کو مزید متحرک کرنے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔  کمیونسٹ پارٹی لبریشن کی رکن کاویتا کریشنا نے کہا کہ ’کشمیری لوگوں نے 1947 میں بھارت سے اس لیے الحاق کیا کیونکہ وہ سمجھتے کہ ان کی شناخت اور آزادی پاکستان کے مقابلے میں سیکولر بھارت میں محفوظ رہے گئی اور آرٹیکل 370 مزید ضمانت فراہم کرے گا۔  ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو اپنے فیصلے پر قانونی چیلنجز اور پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کریشنا نے بی جی پی کے فیصلے کو بھارت کے وفاقی آئین پر حملہ قرار دیا۔ ادھرجموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی رکن شہلا راشد نے کہا کہ ’جموں و کشمیر ریاست کی منتخب قانون ساز اسمبلی کی عدم موجودگی میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا، اس اقدام کے خلاف ہم سیاسی اور قانون محاذ پر مقابلہ کریں گے۔ مظاہرے میں شریک ایک رکن نے کہا کہ ’میں احتجاجی مظاہرے میں اس لیے شریک ہوا کہ مجھے شرم آرہی کہ ہماری حکومت ایک ریاست کے لوگوں سے مشاورت کے بغیر ہی اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی جموریت کی توہین ہے اور جموری عمل کے قطعی منافی ہے۔

News Code 1892780

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 15 =