ایران کے انقلابی اقدام اور منہ توڑ جواب پر برطانیہ کو سخت شرمندگی اور سرافکندگی کا سامنا

اسلامی جمہوریہ ایران نے برطانوی تیل بردار بحری جہاز اسٹینا ایمپرو کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ضبط کرکے برطانیہ کو انقلابی اور منہ توڑ جواب د یا ہے۔ ایران کے انقلابی اقدام کے بعد برطانیہ کو سخت شرمندگی اور سرافکندگی کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے برطانوی تیل بردار بحری جہاز اسٹینا ایمپرو کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ضبط کرکے برطانیہ کو انقلابی اور منہ توڑ جواب د یا ہے۔ ایران کے انقلابی اقدام  کے بعد برطانیہ کو سخت شرمندگی اور سرافکندگی کا سامنا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع نے ایران کے اقدام کو دشمنی پر مبنی قراردیا ہے جبکہ برطانوی وزير خارجہ جیرمی ہینٹ نے کشیدگی کو کم کرنے پر زوردیا ہے۔ برطانوی کمیٹی کا دوسرا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہینٹ نے برطانوی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے۔ جیرمی ہینٹ نے یہ دعوی بھی کیا کہ برطانوی تیل بردار جہاز کو ایران نے خلیج عمان  میں ضبط کیا ہے۔ ادھر برطانیہ کے انتہا پسند عناصر نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کامطالبہ کیا ہے جبکہ انھیں اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ایران کے خلاف برطانوی اور امریکی پابندیوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

برطانیہ نے اس سے قبل جبل الطارق کے پانیوں میں ایرانی تیل بردار جہاز گریس 1 کو ضبط کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی جہاز شام کے لئے تیل لے جارہا تھا اور شام کے خلاف عالمی پابندیاں ہیں لہذا برطانیہ نے ایرانی جہاز کو ضبط کرلیا ۔ ایران نے پہلے برطانیہ پر زوردیا کہ وہ ایرانی جہاز کو آزاد کردے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے حالیہ ایک خطاب میں برطانیہ کو خـبردار کیا تھا کہ وہ شرارت سے باز آجائے ورنہ اسے منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے دو روز قبل برطانیہ کے تیل بردار جہاز اسٹینا ایمپرو کو بحری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر قبضہ میں لے لیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ برطانوی تیل بردار جہاز کو بحری جنگی جہاز اسکورٹ کررہا تھا اور جہاز اپنا راستہ چھوڑ کر پیچھے کی طرف آرہا تھا جس کی بنا پر دوسرے جہازوں سے اس کے ٹکرانے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ایرانی سپاہ کے ترجمان جنرل شریف نے کہا کہ ایرانی بندرگاہ اور میری ٹائیم آرگنائزیشن آف ایران کی طرف سے ہمیں اطلاعات موصول ہوئی کہ ایک برطانوی ٹینکر مسائل پیدا کر رہا ہے  اور فوج کو اس ٹینکر کو بندرگاہ پر لے جا کر تفتیش کرنے کا کہا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے برطانوی تیل بردار ٹینکر کو 3  عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر ضبط کیا پہلی یہ کہ اس نے اپنا جی پی ایس سسٹم بند کر رکھا تھا، دوسری یہ کہ یہ آبنائے ہرمز میں درست راستے کے بجائے باہر جانے کے راستے سے داخل ہوا اور تیسری یہ کہ اس نے تمام تر پیغامات کو نظر انداز کیا۔ جنرل شریف نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز میں کسی کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔  ایران نے برطانیہ کو تاریخی سبق سکھایا ہے اور علاقائی عرب ممالک کو اس موقع پر ہوشیاری سے کام لینا چاہیے اور برطانیہ کا ساتھ دینے اور اس کا آلہ کار بننے  کے بجائے حق کا ساتھ دینا چاہیے ۔ بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکہ اور برطانیہ جیسے ظالم و جابر ممالک پر اعتماد کرنے کے بجائےاللہ تعالی کی ذات اور برادر اسلامی ممالک پر اعتماد رکھنا چاہیے اور ایران سے دور ہونے کے بجائے ایران کی علمی اور صنعتی توانائیوں سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے اور خطے کی سکیورٹی کو امریکہ اور برطانیہ کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں رکھناچاہیے اور غیر علاقائی طاقتوں پر اعتماد نہیں کرناچاہیے۔

News Code 1892311

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =