ہانگ کانگ میں ماؤں کا بچوں کی رہائی کے لئےمظاہرہ

ہانگ کانگ میں متنازع بل کے خلاف مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے طلبا کی رہائی کے لیے 10 ہزار سے زائد مائیں سڑکوں پر نکل آئیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں متنازع بل کے خلاف مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے طلبا کی رہائی کے لیے 10 ہزار سے زائد مائیں سڑکوں پر نکل آئیں۔ اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ کی سڑکوں پر اپنی نوعیت کا انوکھا ترین احتجاج کیا جا رہا ہے اس احتجاج میں صرف مائیں شامل ہیں جن کا مطالبہ حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کے جرم میں گرفتار بیٹوں کی باعزت رہائی ہے۔ اس احتجاج کو مدر مارچ  کا نام دیا گیا ہے جس میں 10 ہزار سے زائد مائیں شریک ہیں، احتجاجی ماؤں نے موبائل کی ٹارچ لائٹ کو جلا کر اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر رکھے تھے جیسے امن کی مشعلیں تھامی ہوں۔ ماؤں نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جس میں طلبا کی باعزت رہائی کے مطالبے درج تھے اور حکومت کے ملزمان کو چین حوالگی کے متنازع بل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔واضح رہے کہ ہانگ کانگ کی حکومت نے ملزمان کی چین کو حوالگی کا بل منظور کیا تھا جس کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے اور سڑکیں بند کردی تھیں۔ ہانگ کانگ کی منتظم اعلیٰ نے بل معطل کردیا تھا تاہم مظاہرین بل کی منسوخی پر بضد رہے۔

News Code 1891952

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =