رانا ثنا اللہ منشیات فروشی کے بین الاقوامی گروہ کا حصہ

پاکستان کے وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ منشیات کے بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے، ان کی گرفتاری کے لیے ان کی گاڑی کی مسلسل 3 ہفتوں سے نگرانی کی جاتی رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ منشیات کے بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے، ان کی گرفتاری کے لیے ان کی گاڑی کی مسلسل 3 ہفتوں سے نگرانی کی جاتی رہی ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کوئی بھی رکن اسمبلی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے نکلنے والی 15 کلو ہیروئن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے، جب ایوان میں بیٹھنے والے ایسے افراد منشیات فروشی کے کاروبار میں ملوث ہوں تو قوموں کے جنازے نکلتے ہیں۔  شہریار آفریدی نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے برآمد ہونے والی منشیات پہلے فیصل آباد اور پھر لاہور جانی تھی جس کے بعد یہ ملک سے باہر چلی جاتی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس تمام جرم میں بین الاقوامی گروہ ملوث ہے، جس کے کچھ کارندے گرفتار ہوئے اور ان کی نشاندہی پر ہی رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیگی رہنما کو گرفتار کرنے سے قبل ان کی نگرانی کی گئی اور پھر 3 ہفتوں کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

شہریار آفریدی نے بتایا کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ان کی گاڑیوں میں منشیات اسمگلنگ ہوتی ہے، اور ان کی گاڑیوں کو ناکے پر روکا نہیں جاتا اور نہ ہی ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، کیونکہ اے این ایف بغیر ثبوت کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے ان کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے پر گرفتار کیا تھا۔

News Code 1891895

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 10 =