مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فلپائن میں پیر کے روز ہونے والے انتخابات کے بعد صدر رودریگو دیوترتے کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔جس کے بعد ان کی جانب سے سزائے موت بحال کرنے کا وعدہ پورا کرنا ممکن اور آئین دوبارہ تحریر کرنے کی کوششوں میں تیزی آجائے گی۔ فلپائنی صدر بین الاقوامی طور پر اپنے جارحانہ اور طنزیہ بیانات اور منشیات کے خلاف ہولناک جنگ کے باعث جانے جاتے ہیں لیکن ملک کے عمومی حالات اور ان رہنماؤں، جو اسے درست کرنے میں ناکام رہے، سے تنگ عوام میں کافی مقبول ہیں۔ رودریگو دیوترتے منشیات سے وابستہ جرائم کے لیے سزائے موت بحال کرنا چاہتے ہیں، واضح رہے کہ منشیات کے خلاف ان کے کریک ڈاؤن میں منشیات فروخت اور استعمال کرنے والے ہزاروں افراد کو مبینہ طور پر پولیس قتل کرچکی ہے۔جرائم کے حوالے سے ان کے خیالات 2016 میں ان کی بھرپور کامیابی کی وجہ بنے جس میں فردِ جرم عائد کرنے کی عمر 15 سال سے کم کر کے 12 کرنا بھی شامل ہے۔
فلپائن میں پیر کے روز ہونے والے انتخابات کے بعد صدر رودریگو دیوترتے کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
News ID 1890515
آپ کا تبصرہ