میرٹھ میں مسلمانوں کے 200 گھر جلا دیے گئے

بھارت کے شہر میرٹھ میں تجاوزات کے خلاف مہم کے بہانے میں مسلمانوں کے 200 گھر جلا دیے گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے شہر میرٹھ میں تجاوزات کے خلاف مہم کے بہانے میں مسلمانوں کے 200 گھر جلا دیے گئے۔ مقامی انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈ کے ارکان اور پولیس نے 6 مارچ کو میرٹھ کی کچی آبادی بھوسا منڈی میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بستی پر حملہ کیا، ان کے گھر جلا دیے، نہ صرف مردوں اور عورتوں کو مارا پیٹا بلکہ فائرنگ بھی کی۔دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ علاقے کے لوگوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور اپنے گھروں کو خود آگ لگائی۔ اس دوران 4 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بھوسا منڈی سے مہتاب تھیٹر کے علاقے تک پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے دو درجن سے زائد گاڑیاں، موٹر سائیکلوں اور 8 بسوں کو بھی نقصان پہنچایا، بعد میں پولیس نے صورت حال پر قابو پایا۔ انتظامیہ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، مکانات جلنے سے بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور اپنی قیمتی اشیاء سے بھی محروم ہوگئے۔

News Code 1888756

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =