فرانس کے بعد بیلجیم اور ہالینڈ میں بھی عوامی احتجاج کا آغاز

فرانس کے بعد بیلجیم اور ہالینڈ میں بھی یلو ویسٹ کے احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں انہوں نے بیلیجم کے وزیراعظم چارلیس مائیکل سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس کے بعد بیلجیم اور ہالینڈ میں بھی یلو ویسٹ کے احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں انہوں نے بیلیجم کے وزیراعظم چارلیس مائیکل سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کیا۔ برسلز میں مظاہرین کی جانب سے چارلیس مائیکل کے آفس، پارلیمنٹ ہاؤس، حکومتی مراکز کی حدود بندی میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ برسلز پولیس کے ترجمان ایلس وین دی نے بتایا کہ تقریباً 400 افراد نے احجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 100 مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا اور ان کے قبضے سے فائرورکز اور کپڑے برآمد ہوئے جو پولیس سے چھڑپ کے دوران ممکنہ طو رپر استعمال کیے جانے تھے۔ واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ 4 ہفتوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اگرچہ فرانسیسی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ 6 ماہ تک کے لیے واپس لے لیا تاہم اب تازہ ترین مظاہروں میں فرانسیسی صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

News Code 1886323

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =